تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 178 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 178

تاریخ احمدیت جلد ۵ 174 خلافت عثمانیہ کا سولہواں سال چونکہ کانگریس اپنے اجلاس لاہور میں کامل آزادی کی قرار داد منظور کر چکی تھی اس لئے ہمارے بعض بے خبر ہمسایہ ملکوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی تھی کہ بس اب ہندوستان سے انگریزوں کا بوریا بسترا بندھنے والا ہے افغانستان ایران ، ترکی اور مصر کے بعض حلقے اس امر پر بے حد تاسف کا اظہار کر رہے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اس آزادی کی تحریک میں شامل نہیں ہوتے اور انگریز کے اقتدار کو نادانستہ زیادہ استوار کر رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک پر انگریز کی گرفت نرم ہونے میں نہیں آتی اخباروں اور عوامی جماعتوں ہی تک یہ معالمہ محمد دو رہتا تو ایسی اہم بات نہ تھی لیکن جب نحاس پاشا اور مصطفی کمال بھی مسلمانان ہند کو ختم کر کے انہیں تحریک آزادی میں حصہ لینے کی تلقین کرتے تھے تو جی جل جاتا تھا کہ ان لوگوں کو حقیقی حالات کا کچھ علم نہیں محض گھر بیٹھے ہی سات کروڑ مسلمانوں کی ایک عظیم جمعیت کو انگریز پرست سمجھ رہے ہیں"۔(سرگزشت از عبد المجید صاحب سالک صفحه ۲۷۸۰۲۷۷) آپ ۱۸۹۳ء میں بمقام پن پیدا ہوئے ۱۲ برس کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ اپنے وطن ناگڑیاں ضلع گجرات (پنجاب) آئے کچھ عرصہ تک امرتسر کی جامع مسجد شیر دین کے مدرسہ عربیہ میں تعلیم پائی۔۲۲-۱۹۲۱ء کی تحریک خلافت کے موقعہ پر جب اس مسجد کے آپ خطیب تھے اپنی پر جوش خطابت سے مسلمانوں کو ترک موالات اور ہجرت پر آمادہ کیا جس سے متاثر ہو کر جہاں ہزاروں مسلمان قید ہوئے تحریک خلافت کے ایام میں رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے ان کو مشورہ دیا کہ جو قدرت تم کو اپنی زبان پر ہے وہ خداداد ہے اور خدا کی ایک بڑی نعمت ہے مگر ایک بڑی خطر ناک نعمت ہے اور تمہاری مسکولیت بہت بڑھ گئی ہے، جب تک تم اسے حق کی راہ میں استعمال کرو گے فلاح دارین حاصل کرو گے لیکن اگر کبھی یہ باطل کی راہ میں استعمال کی گئی تو ہزاروں بندگان خدا کو بھی گمراہ کرنے کے لئے کافی ہوگی۔(سوانح سید عطاء اللہ شاہ بخاری از حبیب الرحمن خان کا بلی میها " تاریخ احرار اور چوہدری افضل حق طبع مانی ۱۹۶۸ صفحہ اے ) ۱۷- سید عطاء اللہ شاہ بخاری - از جناب آغا شورش کا شمیر کی مدیر چشمان لاہور طبع اول صفحه ۸۴-۸۵ ۱۸ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۲۵ مولفہ حبیب الرحمن خان کاہلی جون ۱۹۴۰ ء بار اول پبلشر ہندوستانی کتب خانہ ریلوے روڈ لاہور ۱۱۹ خطبات احرار صفحه ۱۴۵ ۱۲۰ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۹۱ از خان کا بلی) ۱۱- کہتے ہیں کہ مجلس احرار کے ساتھ اسلام کا لفظ مولوی ظفر علی خاں کی تجویز پر شامل ہو ا تھا۔چنانچہ اخبار زمیندار ۸/ اگست ۶۱۹۳۵ صفحہ ۲ سے اس کی تائید ہوتی ہے چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب ( مفکر احرار) سے اس میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ مجلس احرار کی تشکیل کے وقت احرار کے ساتھ اسلام لکھنا آپ پسند نہ کرتے تھے محض مولانا ظفر علی خان کے ارشاد پر احرار اسلام نام دیا گیا"۔۱۳ خطبه جمعه سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اید واللہ تعالی (الفضل ۶/ اگست ۱۹۳۵ء) ۱۳۳- اخبار آزادلاہور چوہدری افضل حق نمبر ۱۳۴ خطبات احرار مرتبہ جناب شورش کاشمیری صفحه ۲۰-۴۲۰۳۴ ۱۳۵ تاریخ احرار صفحه ۶۱ تا شهرز مزم یک ایجنسی بیرون موری دروازہ لاہور۔۲ اخبار آزادل ہو ر ۳۰ / اپریل ۱۹۵۱ء صفحہ سے اکالم ۱-۲- ۱۲۷- اس حقیقت کی مزید وضاحت و تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احرار صفحہ ۱۷۔خطبات احرار صفحہ کے ۷ و ۱۱۵ ۱۲۸- زمیندار ۱۳/ اگست ۱۹۳۵ء صفحه ۳ کالم ۱۲۹ خطبہ صدارت بر موقعہ تبلیغی کانفرنس قادیان (مدینه بجنور یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۴ کالم ۲) ۱۳۰- سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۲۹-۱۳۰ از شورش کاشمیری) ۱۳۱- سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔صفحہ ۷ 10-109- ۱۳۲ مدیر رسالہ چٹان لاہور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی نسبت لکھتے ہیں۔جن چیزوں سے نفور ہوں ان سے تمسخر بھی روا ر کھتے ہیں ان کے ہاں اس تمسخر یا پھکڑ کی زد سب سے زیادہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی ذریات پر پڑتی ہے۔(سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحہ