تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 177
ریت - جلد ۵ 173 خلافت ثانیہ کا سولہواں سا ۸۸ الفضل ۲۴/ ستمبر ۱۹۲۹ء صفحه او الفضل یکم اکتوبر۱۹۲۹ء صفحه ۴۰۳ ۸۹ الفضل یکم نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ 1۔یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس فیصلہ کے بعد فریج کی اجازت ملتوی کر دی تھی۔مگر گوشت کی دکان موجود رہی۔اور آخر ۱۵ جون ۱۹۳۱ء کو محلہ دار العلوم میں نئے تعمیر شدہ مدیح کا انتاج ہوا۔(الفضل ۱۹/ جون ۱۹۳۱ء صفحہ ۱)۔۔الفضل ۳۰/ اگست ۱۹۲۹ء صفحه ۰۵ الفضل ۲۰/ ستمبر ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم ۲-۳- - شار دابل کی تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو۔زمیندار ۲/ اکتوبر 1979ء بحوالہ الفضل ۸ / اکتوبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۹ کالم ۱-۲- الفضل ۲۲/ اکتوبر ۱۹۲۹ء صفحه ۱-۲- ۹۴ ایضا صفحہ و کالم ۳ ۹۵- الفضل ۲۹/ اکتوبر ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم - الفضل ۸/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم - مفصل تحریر کے لئے ملاحظہ ہو۔الفضل ۲۹/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۸ تا ۱۳ الفضل ۱۵/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۶ کالم ۲ تاریخ احمدیت جلد دوم طبع دوم صفحه ۲۰۴ ۹۹ پارس لاہور ۲۴ / نومبر ۱۹۲۹ء بحوالہ الفضل ۲۶ / نومبر ۱۹۲۹ء *|** دفتر پرائیوٹ سیکرٹری ربوہ کے قدیم ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ علم دین کے والد صاحب نے ۷ / جولائی ۱۹۲۹ء کو حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ علم دین قتل راجپال میں گرفتار ہے اور عدالت سیشن سے پھانسی کا حکم ہو چکا ہے اپیل کی تاریخ ۱۵ ماہ حال مقرر ہے۔حضور اس کے لئے دعا فرمائیں۔10- الفضل ۱۵/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۶- ١٠ الفضل ۱۰/ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحه ۶ کالم ۲ ١٠٣- الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ا کالم ۲- ۱۰۴ شائع شدہ الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء صفحه ۹۰۶ ۱۰۵- الفضل ۲۶/ نومبر ۱۹۲۹ء- ١٠ الفضل ۱۷ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۱-۲- ١٠٧- الفضل ۲۹/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۶-۰۷ الفضل ۱۷/ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۶ کالم ۱-۲- الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ا کالم - -11° مسلم ورلڈ اپریل ۱۹۳۱ء بحوالہ تاثرات قادیان (مولفه ملک فضل حسین صاحبه) صفحه ۱۹۸ تا ۲۰۱ ۱۱۱ سرگزشت صفحه ۲۶۲ و الفضل ۲۶ / نومبر ۱۹۳۹ء صفحه ۱۳۔۱۱۲ الفضل ۲۴/ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۸-۹- اخبار انقلاب (۲۰/ دسمبر ۱۹۲۹ء) نے بھی اس وفد کی خبر شائع کر دی تھی۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۳۵۸- (الفضل ۱۰/جنوری ۱۹۳۰ء صفحه ۸) الفضل ۲۲/ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۹ کالم۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالی کی بنیادی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ کانگریس حکومت یا عوام میں سے جو فریق جس پہلو کے اعتبار سے صحیح قدم اٹھاتا آپ اس کی تائید فرماتے مثلاً حضور سے انہیں دنوں عرض کیا گیا کہ شاید کانگریس کے اجلاس لاہور کی وجہ سے حکومت کرسمس کی چھٹیاں منسوخ کر دے اس پر آپ نے فرمایا اگر یہ درست ہے تو روکنے کا طریق بہت بزدلانہ ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ گور نر صاحب خود کانگریس کے جلسہ میں جاتے اور کہتے سناؤ جو کچھ سنانا چاہتے ہو ایسی دلیری کا بھی مخالفین پر خاص اثر ہوتا ہے۔(الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۹ کالم ۲) ۱۵ یادر ہے کا نگریسی پراپیگنڈا کی وجہ سے دوسرے مسلم ممالک اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ مسلمانان ہند غلامی کے زمانہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ عبد المجید صاحب سالک اپنی کتاب سرگزشت میں لکھتے ہیں۔