تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 165
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 161 تھا۔لیکن فکر نظر کسوئی اور قیادت کا تناسب مقابلتا کمتر تھا " - خلافت ماشیہ کا سولہواں سال مجلس احرار کے اخبار "آزاد" کی رائے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مجلس احرار کے خطبوں میں جذباتیت، پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا عصر غالب ہوتا ہے یہ ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہماری قوم کی ذہنیت اور مذاق کیا ہ۔۔۔آپ ذرا حقیقت پسند ، سنجیدہ اور متین بن جائیں پھر آپ مسلمانوں میں مقبول ہو جائیں اور کوئی تعمیری و اصلاحی کام کرلیں تو ہمار ا زمہ۔یہی تو ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم حقائق و واقعات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے صرف جذبات سے کام نکالتے ہیں اسی طرح اشتعال انگیزی بھی ہماری تحریکوں ، جماعتوں اور قائدوں کی جان ہے۔آپ بڑے بڑے دیندار با اخلاق اور سنجیدہ اور متین پہاڑوں کو کھو دیں تو اشتعال کا چوہا نکلے گا۔الیکشن بازی میں تو دیندار اور بے دین سب کے سب اشتعال انگیزی ہی سے کام لیتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس سے کوئی کم لیتا ہے اور کوئی زیادہ ہمارے احراری بزرگ اس میں سب سے آگے ہیں اس لئے وہ رشک و حسد کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں "۔امریکہ کے ایک مشہور مصنف کی رائے امریکہ کے ایک نامور مصنف مسٹر جان گشتھر لکھتے ہیں۔احرار پنجاب میں بایاں بازو ہیں اور وہ کانگریس کے ساتھ ہیں وہ عجیب مجموعہ اضداد ہیں ایک طرف وہ مذہبی اعتبار سے فرقہ پسند فدائی ہیں اور دوسری طرف سیاسی انتہا پسند " 1 حضرت حافظ روشن علی صاحب ان کے علاوہ (جن کا تذکرہ جلیل القدر صحابہ کا انتقال گزشتہ صفحات میں کیا جا چکا ہے )۱۹۲۹ء میں کئی اور جلیل القدر صحابہ کا انتقال ہو ا جن کے نام یہ ہیں۔ہوا ۰۵ حضرت مولوی محمد صاحب مزنگ لاہور ( تاریخ وفات ۲/ جنوری ۱۹۲۹ء) حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب ( تاریخ وفات ۱۲/ جنوری ۱۹۲۹ء) حضرت شهامت خاں صاحب ناردون ضلع کانگڑہ (والد ماجد ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب) حضرت بابو روشن دین صاحب سیالکوٹ ( تاریخ وفات ۲۴/ جنوری ۱۹۲۹ء ) شاہ جہاں بی بی المیہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شهید ( تاریخ وفات یکم نومبر ۱۹۲۹ء صوفی با با شیر محمد صاحب آف بنگہ ضلع جالندھر - IFA