تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 162
تاریخ احمدیت جلد ۵ 158 خلافت ثانیہ کا سولہواں | SIN جس میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے میری صدارت میں تقریر کی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مسلمان نوجوان ہندوستان کی آزادی کا ہر اول ثابت ہوں۔آزادی کے حصول کا فخر ہمارے حصہ میں آئے۔اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد سول نافرمانی کا آغاز ہوا۔اور کانگریس کے جھنڈے تلے سب نے مل کر قربانیاں پیش کیں "۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے ایک سوانح نگار لکھتے ہیں۔” دسمبر ۱۹۲۹ء میں کانگریس نے مکمل آزادی کا ریزولیوشن پاس کیا اور اپریل ۱۹۳۰ء میں نمکین ستیہ گرہ کا آغاز کر دیا۔احرار ذہناً کانگریس کے ساتھ تھے انہوں نے اپنی تنظیم کو ادھورا چھوڑا اور کانگریس میں شریک ہو کر سول نافرمانی میں حصہ لینے لگے۔اس کی تفصیل میں شاہ جی کے ایک اور سوانح نویس نے لکھا ہے کہ۔انڈین نیشنل کانگریس نے ۱۹۲۹ء کے اجلاس میں بمقام لاہور جب آزادی کامل کی قرار داد منظور کی تو اس کی تائید واشاعت میں آپ نے نہایت انہماک اور سرگرمی ت حصہ لیا اور جب مہاتما گاندھی کی قیادت میں آزادی کا بگل بجایا گیا اور نمکین سول نافرمانی کا ملک میں آغاز ہوا تو آپ پیش پیش رہے اور تمام ہندوستان میں کانگریس کے پروگرام کی اشاعت کے لئے طوفانی دورے کئے۔ایک احراری لیڈر جناب مظہر علی صاحب اظہر کا بیان ہے کہ۔مجلس احرار کے قیام کے وقت کانگریس سے کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ ہمارے بہترین کارکن ۱۹۳۰ء کی سول نافرمانی کی تحریک میں قید کاٹ چکے تھے جن میں سے سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی ، چوہدری افضل حق صاحب اور شیخ حسام الدین صاحب کے نام بیان کر دینا مناسب ہے اس کے علاوہ ہمارے رضا کاروں نے تحریک سول نافرمانی میں حصہ لیا۔مجلس احرار کے صدر جناب سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا اپنے متعلق واضح طور پر اعلان تھا کہ "سمر سے پاؤں تک سیاسی آدمی ہوں"۔لہذا مجلس احرار بنیادی حیثیت سے خالص ایک سیاسی III جماعت تھی جس کا اصولی و بنیادی مقصد وحید مسلمانوں کو اپنے جوش خطابت سے کانگریس کی پالیسی پر گامزن اور اس کی تحریک پر کار بند کرنا تھا اور کانگریس کے چوٹی کے لیڈر ان دنوں جماعت احمدیہ کو تمام اسلامی جماعتوں میں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتے تھے۔اور اس کی زبر دست تنظیم اور فدائیت کا بے نظیر جذ بہ ان کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔چنانچہ ڈاکٹر سید محمود جنرل سیکرٹری آل انڈیا نیشنل کانگریس اپریل ۱۹۳۰ء میں قادیان آئے۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ پنڈت جواہر لال صاحب نہرو جب یورپ کے سفر سے (دسمبر۷ ۱۹۲ء) میں واپس