تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 154 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 154

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 150 خلافت ثانیہ کا سولہواں توجہ دلانے اور یہود کو مظالم سے باز رکھے جانے کے لئے ریزولیوشن پیش کئے جو اتفاق رائے سے پاس ہوئے۔شار دابل اور حضرت خلیفتہ المسح اید واللہ اجمیر کے ستر بر لاس شہر دانے اسہیل میں مسٹر ہر تجویز پیش کی کہ ہندوؤں میں کم سن بچوں کی شادی کی عادت پائی جاتی ہے جس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشود نما اخلاق و عادات اور صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے لہذا ایک قانون نافذ کیا جائے جس سے اس رسم کا انسداد ہو سکے۔یہ تجویز شار دابل کے نام سے موسوم ہوئی اور اسے وائسرائے ہند کی منظوری سے پورے ہندوستان پر نافذ کر دیا گیا۔امیر المومنین سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے اس قانون سے متعلق حکومت ہند کو ایک مفصل بیان ارسال فرمایا جس میں بتایا کہ بچپن کی شادی پر قانوناً پابندی عائد کرنا درست نہیں تعلیم اور وعظ کے ذریعہ اس کی روک تھام کرنی چاہئے۔قانون بنا دینے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔صحیح طریق یہ ہے کہ بچوں کو بالغ ہونے پر فسخ نکاح کا حق دیا جائے اس حق سے تمام نقائص دور ہو سکتے ہیں بلا شبہ فسخ نکاح کے معاملہ میں دوسرے مذاہب کا اسلامی تعلیم سے اختلاف ہے لیکن اس کے باوجود یہ عقل و فہم سے بالا امر ہے کہ مسلمانوں کو کیوں ایسے تمدنی حالات میں دو سرے مذاہب کے تابع کیا جائے جن میں ہماری شریعت نے ہمارے لئے معقول صورت پیدا کر دی ہے لیکن ان کے ہاں کوئی علاج نہیں۔شرعاً ایسے قانون کی ہمارے نزدیک ممانعت نہیں بشرطیکہ اس کا فیصلہ مسلمانوں کی رائے پر انہی دنوں حضور سے سوال کیا گیا کہ یہ مداخلت فی الدین ہے؟ حضور نے فرمایا۔نہیں۔ہمارے نزدیک مداخلت فی الدین وہ ہے جس پر جہاد کرنا فرض ہو جائے اسے ہم تمنیات میں مداخلت سمجھتے ہیں اور اسی بناء پر اس کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ کسی قوم کو دوسروں کے تمدن میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔تمدنی طور پر جن باتوں کی اسلام نے اجازت دی ہے ان سے روکنے کا حق کسی کو نہیں۔ہاں اگر مسلمان آپس میں فیصلہ کر کے ایسا کر لیتے تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ یہ عارضی انتظام ہے جو ایک جائز بات میں عیب پیدا ہونے کی وجہ سے اسے روکنے کے لئے کیا گیا ہے لیکن دوسروں کا اس سے روکنا مستقل طور پر ہے اور رسول کریم ایل پر حملہ ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا"۔حضور ایدہ اللہ تعالٰی درد شکم کے علاج کی غرض سے ۲۵/ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو لاہور تشریف سفر لاہور لے گئے۔اور کرنل باٹ صاحب سے طبی مشورہ لینے کے علاوہ نماز جمعہ پڑھانے اور احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کی ایک دعوت میں تقریر فرمانے کے بعد ۴/ نومبر کی شام کو قادیان