تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 142
جلده 138 خلافت ثانیه دیئے اور اس طرح پشاور کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا یا نہیں نہیں صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ہادی و رہنما فداہ ابی) کی یاد کے جلسے کو برباد کر کے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کر دیا اور مخالفین کو یہ کہنے کا موقعہ دیا کہ مسلمان بچے دل سے رسول اللہ اللہ کی قدر نہیں کرتے۔ہمیں یقین ہے کہ اس شرارت کے ذمہ دار چند جاہل لونڈے ہوں گے ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم انہیں تو بہ کی توفیق عطا فرمائے۔گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی " الفضل " نے ۳۱ / مئی ۱۹۲۹ء کو شاندار خاتم النیسین نمبر شائع کیا۔جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ جماعت احمدیہ کے مشہور اور جید علماء و فضلا ( اور احمدی (خواتین) نے مضمون لکھے۔غیر احمدی مضمون نگاروں میں سے مولوی محمد یعقوب صاحب ڈپٹی پریذیڈنٹ لیجسلیٹو اسمبلی دہلی ، سید حبیب صاحب ایڈیٹر روزنامه "سیاست" لاہور، ملار موزی صاحب، خواجہ حسن نظامی صاحب دہلی اور غیر مسلم مضمون نگاروں میں سے لالہ رام چند صاحب منچندہ بی۔اے۔ایل ایل بی وکیل لاہور، پنڈت ٹھا کر دت صاحب شرما موجد امرت دھارا لالہ جگن ناتھ صاحب بی اے۔ایل ایل بی وکیل کبیر والہ (ضلع ملتان) پروفیسر ایچ۔ہی۔کمار صاحب بی۔اے اور پادری غلام مسیح صاحب لاہور خاص طور پر قابل ذکر تھے۔اس نمبر کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ احمدی غیر احمدی اور غیر مسلم شعراء نے اپنا نعتیہ کلام اس کے لئے بھیجا تھا۔مثلاً حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری ، ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب حضرت میر محمد اسمعیل صاحب حضرت مولوی ذوالفقار علی صاحب جناب حکیم سید علی صاحب آشفته لکھنوی، لسان الملک ریاض خیر آبادی لسان الهند مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی، منشی لچھمن نرائن صاحب سنہائی۔اے لسان القوم صفی لکھنوی اعتبار الملک حکیم مولوی ضمیر حسن خان صاحب دل شاہجہانپوری۔الفضل کے اس خصوصی نمبر پر غیر مسلم اور مسلم دونوں حلقوں نے عمدہ آراء کا اظہار کیا۔۔چنانچہ لالہ رام چند صاحب منچندہ بی اے ایل ایل بی۔ایڈووکیٹ لاہو ر نے لکھا۔” میں نے اہل قلم کے قیمتی مضامین کو جو تمام کے تمام حضرت رسول اللہ کی پاک ذات اور سوانح عمری کے متعلق ہیں نہایت ہی مسرت اور دلچسپی سے پڑھا۔۔۔۔اگر استقلال کے ساتھ اس کو جاری رکھا گیا تو آج سے تیس سال بعد کئی ہندو گھرانوں میں پیغمبر صاحب کی برسی منائی جائے گی۔اور جو کام مسلم بادشاہ ہندوؤں سے نہیں کرا سکے وہ آپ کرا سکیں گے ، ملک میں امن ہو گا خوشحالی ہو گی ترقی اور آزادی ہوگی اور ہندو مسلم باوجود اختلافات کے بھائیوں کی طرح رہیں