تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 141 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 141

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 137 خلافت تانیہ کا سولہواں سال کو حضور کے حالات ملک کے گوشتہ گوشتہ میں بیان کئے جائیں گے۔اخبار ” ہمت " لکھنو (۳/ مئی ۱۹۲۹ء) نے لکھا۔" " جناب امام جماعت احمدیہ کی یہ مبارک تجویز بے حد مقبول ہو رہی ہے کہ مختلف اور مخصوص مقامات پر اس طرح کے جلسے منعقد کئے جائیں جن میں مسلمانوں کے تمام فرقوں کے علماء اور لیکچرار بالاتفاق سیرت نبوی پر اظہار خیالات فرما ئیں اور ان جلسوں میں دوسرے فرقوں کے افراد کو بھی شرکت کی دعوت اور ان کی نشست وغیرہ کا انتظام کیا جائے جماعت احمدیہ کی سنجیدہ اور ٹھوس تبلیغی سرگرمیاں ہر حیثیت سے مستحق مبارکباد ہیں اور ہمارے نزدیک مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس نهایت مفید اور اہم تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پوری سعی سے کام لیں "۔" حکیم مولوی امجد علی صاحب آنریری مجسٹریٹ اور کیس دہلی نے کہا۔ایسے نازک وقت میں جبکہ ہندوستان میں چاروں طرف آگ لگی ہوئی تھی حضرت امام جماعت احمدیہ نے ان پاک جلسوں کی بنیاد رکھ کر ہم پر بڑا احسان کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا تعالی کی طرف سے ایک الہامی تحریک تھی۔اسلامی پریس نے امسال بھی ان جلسوں پر مفصل تبصرہ کیا اور ان کی افادیت کا اقرار کیا۔چنانچہ "انقلاب" (لاہور) "کشمیری گزٹ " (لاہور) "مدینہ" (بجنور) "تعمیر" ( فیض آباد) "محسن" (ملتان) "سیاست" (لاہور) " صحیفہ " (حیدر آباد دکن) "حقیقت" " ہمدم " " ہمت " (لکھنو) اور بنگال کے " متعدد انگریزی، اردو بنگالی اخبارات کے علاوہ بیرونی ممالک میں "ڈیلی نیوز" شکاگو اور افریقہ کے متعدد اخبارات نے اپنے اپنے رنگ میں اس تحریک کی پر زور تائید کی اور بعض نے جلسوں کی روئیدادیں بھی شائع کیں۔اس کے مقابل سیرت النبی کے جلسوں کی سب سے زیادہ مخالفت اخبار "زمیندار" کے ایڈیٹر مولوی ظفر علی خاں کی طرف سے کی گئی جس کی وجہ سے ملتان، فیض آباد انبالہ لاہور اور پشاور وغیرہ مقامات میں افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی۔غیر جانبدار اسلامی پریس مثلاً اخبار "تعمیر فیض آباد (۴/ جون ۱۹۲۹ء) اخبار "محسن ملمان (۶ / جون ۱۹۲۹ء) اور اخبار "سیاست" لاہور (۸/ جون ۱۹۲۹ء) نے اس پر زبر دست تنقید کی چنانچہ موخر الذکر اخبار نے خصوصاً پشاور کے مخالفین کے متعلق لکھا۔" سب سے زیادہ اندوہناک مداخلت پشاور میں رونما ہوئی۔پشاور لاہور سے بہت دور ہے اور وہاں کے نوجوان اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ گدائے لم یزل کی مخالفت و موافقت کبھی بھی نی سبیل اللہ نہیں ہوئی۔انہوں نے اس کی شریرانہ تحریروں سے متاثر ہو کر جلسہ میں گدھے چھوڑ