تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 118 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 118

تاریخ احمدیت جلد ۵ سے۷ / اگست ۱۹۲۸ء کے الفضل میں۔الفضل / جولائی ۱۹۲۸ء تا ۷ / اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۱ 114 خلافت مثلاً حافظ عبد السلام صاحب شملہ مرزا عبد الحق صاحب بی۔اے ایل ایل بی گورداسپور چوہدری عصمت اللہ صاحب وکیل لائلپور - منشی قدرت اللہ صاحب سنوری- صالح محمد صاحب قصور نذیر احمد صاحب متعلم بی ایس سی بابو عبد الحمید صاحب شمله قریشی رشید احمد صاحب بی۔ایس سی۔میرٹھ۔بابو فقیر محمد صاحب کورٹ انسپکٹر کیمل پور ملک عبد الرحمن صاحب خادم گجرات۔سید محمد اقبال حسین صاحب ہیڈ ماسٹر نور محل بابو روشن دین صاحب سیالکوٹ ماسٹر فقیر اللہ صاحب ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس۔ا الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۲۸ء صفحه ا -۱۷۲ مولوی ارجمند خان صاحب کی روایت ہے کہ " ایک دفعہ میں نے اختتام درس پر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ناقل) سے عرض کیا آپ لکھنے کی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں۔آپ کو قرآن مجید کے علوم سے واقفیت اور پورا عبور حاصل ہے آپ نے جو اب فرمایا ایک تو میں حضرت صاحب کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں دوسرے یہ کہ اگر چہ میں حضور کو خلافت سے قبل پڑھا تا رہا ہوں لیکن منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اللہ تعالی نے آپ پر معارف اور حقائق قرآنیہ کا ایسا دروازہ کھولا ہے کہ میرا فهم ان علوم سے قاصر ہے اور میں حضور کا شاگرد ہوں استاد نہیں"۔(اصحاب احمد جلد پنجم حصہ سوم صفحه ۵۴ طبع اول) ۱۷- رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۸۸- اصحاب احمد " جلد بیم حصہ سوم صفحه ۱۵۴ مرتبہ جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان) تاریخ اشاعت نمبر ۱۹۶۴ء ناشر احمد یہ بیڈ پو ربوہ طبع اول- ۱۷۴ دو اڑھائی سو مستورات بھی پردہ میں بیٹھ کر استفادہ کرتی تھیں (الفضل ۱۴/ اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۱) ۱۷۵ الفضل سے الر اگست ۱۹۲۸ء صفحہ اکالم ۱-۲ ١٧٦ الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۲ ۱۷۷- الفضل ۷ / ستمبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۵ کالم ۳ ۱۷۸ - الفضل ۷ / ستمبر ۱۹۲۸ء صفحه ۱ ١٧٩- الفضل ۱۱/ ستمبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۳ کالم ۱ ١٠- الفضل ۱۱/ ستمبر ۱۹۲۸ء صفحه ۲ کالم ۱-۲ الفضل ۱۴/ ستمبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۷ کالم ۳ ۱۸۲- افسوس یہ تاریخی نوثواب قریبا نا پید ہے اور باوجود تلاش کے شعبہ تاریخ احمدیت " ربوہ کو اب تک دستیاب نہیں ہو سکا۔الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۲ میں مرزا عبد الحق صاحب وکیل گورداسپور (حال امیر صوبائی مغربی پاکستان کے قلم سے درس کے اجتماع کا فوٹو" کے عنوان سے اس فوٹو کا یوں ذکر ملتا ہے کہ ”جن دوستوں نے درس کے موقعہ پر فوٹو کی قیمت ادا کی تھی ان کی خدمت میں اطلاعا عرض ہے کہ وہ اپنی کاپی مولوی عبد الرحمن صاحب مولوی فاضل مدرسہ احمدیہ قادیان سے محصول ڈاک بھیج کر منگوا سکتے ہیں"۔۱۸۳- ولادت ستمبر ۱۸۹۲ء بیعت ۱۹۱۲ء - ۱۹۳۲ سے ۱۹۴۲ء تک جماعت احمد یہ نئی دہلی و شملہ کے امیر رہے اور ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۷ء تک نئی دہلی کی جماعت احمدیہ کے امیر اور مشترکہ جماعت دہلی وینتی دیلی کے نائب امیر کی حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۵۲ء میں پنشن پانے کے بعد زندگی وقف کی اور سالہا سال تک تحریک جدید میں وکیل الدیوان اور وکیل اعلیٰ کے عہدوں پر فائز رہے اور ان دنوں وکیل المال ثانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔۱۸۴ - الفضل ۱۲/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه ۱۲ ۱۸۵- الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه ۳ و صفحه ۷-۸ ١٨٦ الفضل ٢٣/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه ۳ و صفحه ۸۰۷ الفضل ۱۶-۲۰/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحه ۱ الفضل ۲۳/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحها