تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 67
تاریخ احمدیت جلد ۳ 59 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوائع تحمل از خلافت انسان بننے والا بھی پیٹ میں صرف ایک نطفہ یا حلقہ ہوتا ہے " mm گا۔یہ پیشگوئی خلافت ثانیہ کے قیام پر پوری شان سے پوری ہوئی جیسا کہ آئندہ صفحات سے معلوم ہو مدرسه ۱۹۰۵ء میں جب آپ کی عمر ۱۶ تعلیم الاسلام کے بقاء کی کامیاب کوشش سال کی تھی اور شباب کا ابھی آغاز ہی تھا کہ ایک نہایت ضروری مسئلہ پیش آگیا۔اور وہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو قائم رکھنے کا مسئلہ تھا حضرت مسیح موعود چاہتے تھے۔کہ مدرسہ تعلیم الاسلام سے ایسے لوگ تیار ہو کر نکلیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر کے اشاعت اسلام کا کام کرنے والے ہوں۔مگر درسہ تعلیم الاسلام کی مجلس منتظمہ کے تمام ممبرید چاہتے تھے کہ مدرسہ بند کر دیا جائے۔اور ان کی اس رائے سے گویا کل تعلیم یافتہ جوانوں اور اہل الرائے حضرات کا اتفاق تھا صرف دو وجود باجود اس رائے سے متفق نہیں تھے۔سیدنا حضرت مولوی حاجی نورالدین صاحب اور سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور بفضلہ تعالی یہی حضرات کامیاب ہوئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مدرسہ کو قائم رکھنے اور اس میں دینیات کی ایک شاخ کھولنے کا فیصلہ صادر فرما دیا یہ دسمبر ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے۔12+ مجلس معتمدین صد را انجمن احمدیہ کے ارکان میں شمولیت جنوری 1907ء میں جب نظام الوصیت کے نظم و نسق چلانے کے لئے صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجلس معتمدین کے ارکان میں سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود کو بھی بطور ممبر نامزد فرمایا۔نواب مبارکه خلافت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی نسبت حضرت مسیح موعود پر انکشاف حضرت سیدہ بیگم صاحبہ ، اللہ ظلما تحریر فرماتی ہیں۔" جب انجمن کا قیام ہو رہا تھا۔ان دنوں کا ذکر ہے کہ باہر کوئی میٹنگ انجمن کے ارکان کے انتخاب کی یا مقرر شدہ لوگوں کی قوانین وغیرہ کے متعلق ہو رہی تھی۔(کیونکہ انجمن بن رہی تھی یا بن چکی تھی یہ مجھے علم نہیں نہ ٹھیک یاد ہے) حضرت سید نا بڑے بھائی صاحب باہر سے آکر آپ کو رپورٹ کرتے اور باتیں بتا کر جاتے تھے۔آپ حضرت اماں جان والے صحن میں مل رہے تھے۔جب حضرت سیدا بھائی صاحب آخری بار کچھ باتیں کر کے چلے گئے تو آپ دار البرکات کے صحن کی جانب آئے اور وہاں