تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 65
تاریخ احمدیت جلد ۲ 57 سیدنا حضرت خدیہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت حضر ت مولوی عبد الکریم صاحب کی سیدنا حضرت محمود ایده الله الودود تحریر فرماتے وفلت اور آپ کی زندگی میں تغیر عظیم ہیں۔"مولوی عبدالکریم صاحب بہار ہوئے۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ یخنی لے کر میں مولوی صاحب 19 کے لئے گیا تھا اس کے سوا یاد نہیں کہ کبھی گیا ہوں۔اس زمانہ کے خیالات کے مطابق یقین کرتا تھا کہ مولوی صاحب نو ہی نہیں ہو سکتے۔۔۔۔مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت تیز تھی ایک دو سبق ان کے پاس الف لیلہ کے پڑھے پھر چھوڑ دیے۔اس سے زائد ان سے تعلق نہ تھا۔ہاں ان دنوں میں یہ بخشیں خوب ہوا کرتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دایاں فرشتہ کونسا ہے اور بایاں کونسا؟ بعض کہتے مولوی عبد الکریم صاحب رائیں ہیں بعض حضرت استاذی المکرم خلیفہ اول کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں علموں اور کاموں کا موازنہ کرنے کی اس وقت طاقت نہ تھی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اسی محبت کی وجہ سے جو حضرت خلیفہ اول مجھ سے کیا کرتے تھے میں نورالدینوں میں سے تھا۔ہم نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی دریافت کیا اور آپ نے ہمارے خیال کی تصدیق کی۔غرض مولوی عبد الکریم صاحب سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا۔سوائے اس کے کہ میں ان کے پُر زور خطبوں کا مداح تھا۔اور ان کی محبت اور ان کی حب مسیح موعود کا معتقد تھا مگر جو نہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہو گیا۔وہ آواز ایک بجلی تھی جو میرے جسم کے اندر سے گزر گئی جس وقت میں نے آپ کی وفات کی خبر سنی مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی۔دوڑ کر اپنے کمرہ میں گھس گیا اور دروازہ بند کر لیا۔پھر ایک بے جان لاش کی طرح چار پائی پر گر گیا۔اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔دنیا کی بے ثباتی ، مولوی صاحب کی محبت مسیح اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بٹاتے تھے۔اب آپ کو بہت تکلیف ہو گی اور پھر خیالات پر ایک پردہ پڑ جاتا تھا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا دریا بہنے لگتا تھا۔اس دن نہ میں کھانا کھا سکانہ میرے آنسو تھے حتی کہ میری لا ابالی طبیعت کو دیکھتے ہوئے میری اس حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تعجب ہوا۔اور آپ نے حیرت سے فرمایا کہ محمود کو کیا ہو گیا ہے اس کو تو مولوی صاحب سے کوئی ایسا تعلق نہ تھا یہ تو بہار ہو جائے گا۔خیر مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات نے میری زندگی کے ایک نئے دور کو شروع کیا۔اسی دن سے میری طبیعت میں دین کے کاموں اور سلسلہ کی ضروریات میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی اور وہ بیج بڑھتا ہی چلا گیا۔سچ یہی ہے کہ کوئی دنیاوی سبب حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب ان کی