تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 50
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 42 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہونے والے لڑکے کا نام محمود رکھا جائے گا۔۔۔۔۔پھر جب کہ اس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی اور مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں میں سے کوئی بھی فرقہ باقی نہ رہا جو اس سے بے خبر ہو۔تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے محمود پیدا ہوا۔اور اس کے پیدا ہونے کی میں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تحمیل تبلیغ موئی علم سے لکھا ہوا ہے۔جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں اور اس کے صفحہ ۴ میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے۔اے فخر رسل قرب تو معلومم شد دیر آمده ز راه رور آمد احکام اسلامی کی طرف تحریک ۱۹۰۰ء ک یاد گار رسال چیسوی صدی کا آغاز آپ کی زندگی میں ایک نئے روحانی ۱۲۴ انقلاب کے آغاز پر ہوا۔اس نہایت اہم اجمال کی تفصیل آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔۱۹۰۰ ء میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا موجب ہوا ہے اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک جبہ لایا تھا میں نے آپ سے وہ جبہ لے لیا تھا کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے۔میں اسے پہن نہیں سکتا تھا۔کیونکہ اس کے دامن میرے پاؤں سے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔جب میں گیارہ سال کا ہوا اور ۱۹۰۰ ء نے دنیا میں قدم رکھا۔تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالٰی پر کیوں ایمان لاتا ہوں۔اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے۔میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی۔جس طرح ایک بچہ کو اس کی ماں مل جائے۔تو اسے خوشی ہوتی ہے اس طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا میں اپنے جامہ میں پھولا نہیں ساتا تھا۔میں نے اس وقت اللہ تعالٰی سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔۔۔۔۔مگر آج بھی اس دعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں آج بھی یہی کہتا ہوں خدایا تیری ذات کے متعلق مجھے کبھی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اس وقت میں بچہ تھا اب مجھے زائد تجربہ ہے اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔جب میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہو ئیں۔جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے