تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 45 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 45

تاریخ احمدیت جلد ۴ 37 سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت نہیں کہا۔ہاں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو۔کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو خدا تعالٰی نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔وہ ہمارے حساب کے استاد تھے۔اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے۔لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے ہیںکیونکہ جتنی دور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی۔اور پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔کیونکہ نظر تھک جاتی۔اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔کبھی جی چاہتا۔تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ پڑھتا نہیں۔کبھی مدرسہ میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا۔آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی یہ بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدد سے چلا جاتا ہے۔ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔پھر ہنس کر فرمانے لگے کہ اس سے ہم نے آٹے دال کی دوکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے۔حساب اسے آئے یا نہ آئے کوئی بات نہیں۔آخر رسول کریم یا آپ کے صحابہ نے کون سا حساب سیکھا تھا۔اگر یہ مدرسہ میں چلا جائے تو اچھی بات ہے درنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آگئے۔میں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔اور پھر مدرسہ میں جاناہی چھوڑ دیا۔کبھی مہینہ میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔غرض اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی۔اور میں در حقیقت مجبور بھی تھا۔کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا۔چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا۔پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی۔ریڈ آئیوڈائڈ آف مرکزی کی تلی کے مقام پر مالش کی جاتی تھی۔اسی طرح گلے پر بھی اس کی مالش کی جاتی۔کیونکہ مجھے خنازیر کی بھی شکایت تھی۔غرض آنکھوں میں ککرے۔جگر کی خرابی۔عظم طحال کی شکایت اور پھر اس کے ساتھ بخار کا شروع ہو جانا جو چھ چھ مہینے تک نہ اترتا اور میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا یہ فیصلہ کر دینا کہ یہ جتنا چاہے پڑھ لے اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔ان حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہو گا۔ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب نے میرا اردو کا امتحان لیا۔میں اب بھی بہت بد خط ہوں۔مگر اس زمانہ میں تو میرا انتقاید خط تھا۔کہ پڑھا ہی نہیں جا تا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے۔