تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 664 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 664

تاریخ احمدیت جلد ۴ 629 آنے والا ہے کہنے والے نے کہا ہے دیکھوں گا کس طرح جماعت ترقی کرتی ہے مگر میں بھی دیکھوں گا میرے خدا کی بات پوری ہوتی ہے یا اس شخص کی " چنانچہ ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کی بات پوری ہوئی یہ فتنہ اپنی موت آپ مر گیا۔اور بہت بری طرح مرا۔مگر جماعت احمد یہ پہلے سے زیادہ شان پہلے سے زیادہ قوت اور پہلے سے زیادہ اثر و نفوذ میں بڑھتی چلی گئی۔اور اب خدا کے فضل سے اس کو ایک ایسا غیر معمولی مقام حاصل ہو گیا ہے کہ عصر حاضر کی زندہ مذہبی تحریکات پر قلم اٹھانے والا کوئی شخص اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔سائمن کمیشن کی آمد سے پہلے مسلمانوں کی بروقت رہنمائی ۱۹۸ء کی چیطوری ریفارم سکیم کے مطابق حکومت برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔کہ ہر دس سال کے عرصہ میں ایک کمیشن ہندوستان بھیجا جایا کرے جو غور کر کے رپورٹ کرے کہ کیا ہندوستان مزید حقوق کے حاصل کرنے کے قابل ہو گیا ہے یا نہیں ؟ اور جو حقوق اسے پہلے دیئے جاچکے ہیں وہ ان کو بھی صحیح طور پر استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو کیا یہ حقوق اس سے واپس لے لئے جائیں؟ اس سلسلہ میں حکومت برطانیہ کی طرف سے ۱۹۲۷ء کے آخر میں آئندہ ایک کمیشن کے بھجوائے جانے کا اعلان ہو ا جس کے صدر انگلستان کے مشہور بیرسٹر سر جان سائن مقرر کئے گئے۔کمیشن کے ممبروں میں سے چونکہ کوئی بھی ہندوستانی نہیں تھا اسلئے کانگرس اور ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں نے اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا۔حتی کہ مسلمانوں کے بعض مقتدر سیاست دان جن میں قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح اور محمد علی جو ہر بھی شامل تھے۔اس کے حامی ہو گئے۔حضرت خلیفہ ثانی ان اصحاب کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے مگر اس اقدام سے چونکہ مسلمانوں کے اقتصادی اور سیاسی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اس لئے آپ نے ۸ دسمبر۷ ۱۹۲ء کو مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت کے عنوان سے رسالہ شائع کیا جس میں مسلمانوں کو خالص اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ مشورہ دیا کہ بائیکاٹ کا اثر زیادہ تر مسلمانوں پر پڑے گا۔اور ہندوؤں پر بہت ہی کم پڑے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سے ریفارم سکیم منظور ہوئی ہے ہندو اس امر کو سمجھ چکے ہیں کہ ہندوستان کا مستقبل انگریز قوم سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے لیڈر برابر آٹھ سال سے گرمیوں میں انگلستان جاتے ہیں اور بڑے بڑے انگریزوں سے ہندوؤں کے فائدہ کی باتیں کر کر کے انہیں اپنا ہم خیال بنا چکے ہیں۔اسی طرح وہ کوشش کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں کو ہندوستان لاتے ہیں۔اور ہندوؤں کے گھر مہمان ٹھراتے ہیں مگر مسلمانوں کے پاس نہ دولت ہے نہ ان کے اندر قربانی کا