تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 647
تاریخ احمدیت جلد ۴ 612 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال ساتواں باب (فصل دوم) سفر شمله حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی تحفظ ناموس رسول اور مسلمانوں کے ملکی و قومی حقوق کی نگہداشت کے لئے جو جدوجہد فرما رہے تھے۔اس کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہندوستان کے مشہور مسلم و غیر مسلم زعماء سے تبادلہ خیالات کرنے کے علاوہ حکومت کے حلقوں سے رابطہ پیدا کرنا بھی ضروری تھا۔چنانچہ بنفس نفیس اس مقصد کی تکمیل کے لئے ۱۳ اگست ۱۹۲۷ء کو شملہ تشریف لے گئے اور قریباً ڈیڑھ ماہ تک دن رات مصروف رہنے کے بعد ۲ اکتو بر ۱۹۲۷ء کو دار الامان میں واپس تشریف لائے - 1 اس مبارک سفر میں جو اول سے آخر تک دینی، قومی اور ملکی سرگرمیوں کے لئے وقف تھا آپ کی مصروفیات عروج تک پہنچ گئیں۔۲۴ ناموس پیشوایان مذاہب کے تحفظ کے لئے نیا قانون گورنر صاحب پنجاب نے مقدمہ " در تمان " کے فیصلہ سے قبل ایک تقریر میں کہا کہ اس مقدمہ (در تمان) کا نتیجہ یہ فیصلہ کر دیگا کہ آیا ہمارے لئے موجودہ قانون ہی کافی ہے یا نہیں اس میں ترمیم کرنے کے لئے مجلس واضع قوانین تک جانا پڑیگا۔یعنی در تمان کا بھی اگر وہی فیصلہ ہوا جو راجپال کا ہوا تھا تب حکومت قانون کی ترمیم کے لئے اسمبلی میں سوال رکھے گی۔لیکن حضور نے شملہ تشریف لے جا کر نہ صرف حکومت کو ملکی اور جدید قانون کی ضرورت کا قائل کرنے کی کوشش کی بلکہ اسمبلی کے مسلمان ممبروں سے تبادلہ خیالات کے علاوہ ہندو لیڈروں سے بھی اپنے مجوزہ مسودہ قانون پر گفتگو فرمائی چنانچہ مسلمانوں کے مشہور لیڈر جناب محمد علی جناح ( قائد اعظم) مولوی محمد یعقوب صاحب ڈپٹی پریزیڈنٹ اسمبلی سر عبد القیوم صاحب خان محمد نواز خان صاحب ، مولوی محمد شفیع صاحب داؤدی اور مولوی محمد عرفان صاحب گاہے گاہے آپ کی فرودگاہ پر تشریف لائے اور انہوں نے اس کے تمام پہلوؤں پر گھنٹوں بیٹھ کر تبادلہ خیالات کیا اور آپ کے مسودہ کی نہ صرف تائید کی بلکہ تعریف بھی۔BI یہ مسودہ شائع ہوا تو ہندوستان ٹائمز نے اسے نہایت اہم اور ضروری قرار دیا اور پنڈت مدن موہن مالویہ نے اپنی ایک پرائیویٹ ملاقات میں اصولی طور پر اس سے اتفاق کیا۔اسی طرح مہاراشٹر پارٹی کے لیڈر مسٹر کلکر اور مسٹر پہلوی خود حضور کی قیامگاہ پر آئے اور آپ کی رائے سے اظہار اتفاق کیا۔