تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 646 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 646

611 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال چار واضح خامیوں کی طرف توجہ دلائی۔- موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم گردانتا ہے جو فسادات کی نیت سے کوئی مضمون لکھے۔براه راست تو ہین انبیاء کو جرم نہیں قرار دیتا۔اس قانون کے تحت صرف حکومت ہی مقدمہ چلا سکتی ہے۔اس قانون میں یہ اصلاح کرنا ضروری ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک قانونی کارروائی نہ کی جائے جب تک کہ اصل مؤلف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بشر طیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو۔یہ قانون صوبائی ہے لہذا اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبائی حکومت ضبط کرلے تو باقی تمام صوبائی حکومتیں بھی قانونا پابند ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں اس کتاب کی طباعت یا اشاعت بند کر دیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبہ کی حکومت کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کر دے جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔ہندوستان سے یہ آواز بلند کرنے کے بعد حضور نے لندن کے مبلغ مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے کے ذریعہ انگلستان میں بھی کوشش کر کے وہاں کے پریس میں یہ سوال اٹھا دیا کہ موجودہ قانون ناقص ہے اور اسے جلد بدلنا چاہئے اور پارلیمنٹ میں بھی بعض ممبروں نے یہ معاملہ رکھا۔