تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 597 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 597

تاریخ احمدیت جلد ۴ 562 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال ذات پر بھی کوئی حملہ نہ ہو نہ کسی کے متعلق کسی قسم کے دل آزار کلمات ہوں مجھے امید ہے کہ یہ طرز تحریر جس میں نرمی کا پہلو غالب ہو بالآخر زیادہ مفید نتائج پیدا کرنے والی ہوگی۔افسوس جہاں جماعت احمد یہ قادیان نے اس معاہدہ کی پوری پوری پابندی کی وہاں ”پیغام صلح" اپنے گزشتہ طریق کے مطابق پھر ذاتی حملوں پر اتر آیا۔حتی کہ "سیرت النبی" کے جلسوں کی محض اس وجہ سے مخالفت کی کہ اس کی تحریک قادیان سے اٹھی تھی۔نیز لکھا کہ ان ( مراد حضرت خلیفہ ثانی۔ناقل) کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔صلح کریں یا جنگ کریں۔ہم دونوں حالتوں میں ان کے عقائد کے خلاف جو اسلام میں خطر ناک تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں۔ہر حال میں جنگ کریں گے "۔معاہدہ کی خلاف ورزی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس بات کی تحقیق کے لئے کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کس فریق نے کی ہے ایک ثالثی بورڈ کی تجویز فرمائی اور اعلان کیا کہ اگر یہ بورڈ فیصلہ کر دے کہ میری طرف سے زیادتی ہوئی ہے تو میں علی الاعلان معافی مانگوں گا۔اور اگر یہ فیصلہ ہو کہ مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے زیادتی ہوتی ہے تو وہ اقرار کریں کہ معافی مانگیں گے۔اسی طرح اگر بورڈ کا فیصلہ یہ ہو کہ ہماری اخباروں نے معاہدہ توڑا۔تو ہماری اخباریں بھی معافی مانگیں گی۔اور اگر " پیغام صلح" کا قصور ثابت ہو تو پیغام صلح کو معافی طلب کرنا پڑے گی۔مگر مولوی محمد علی صاحب نے یہ آسان طریق قبول نہ کیا۔مسجد فضل لنڈن کا افتتاح یہ ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۹۲۴ء میں اپنے سفر ولایت کے دوارن میں مسجد لنڈن کی بنیاد رکھی تھی۔مگر چونکہ اس وقت بعض ضروری سامان مہیا نہ ہو سکے تھے۔اس لئے مسجد کی بقیہ تعمیر کچھ عرصہ تک ملتوی رہی۔بالآخر ۱۹۲۵ء میں اس کا کام شروع کیا گیا اور ۱۹۲۶ء میں یہ خدا کا گھر اپنی تکمیل کو پہنچا۔اس وقت مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے نے (جو دار التبلیغ لنڈن کے انچارج تھے) حضرت خلیفتہ المسیح کی ہدایت کے ماتحت بادشاہ فیصل ملک عراق سے درخواست کی وہ اپنے لڑکے شہزادہ زید کو اجازت دیں کہ وہ ہماری مسجد کا افتتاح کریں اور جب اس کے جلد بعد شاہ عراق خود یورپ گئے تو ان سے تحریک کی گئی کہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خود مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لاویں۔مگر انہوں نے اس درخواست کو ٹال دیا اس کے بعد سلطان ابن سعود ملک حجاز کی خدمت میں تار دی گئی کہ وہ اپنے کی صاحبزادہ کو اس کام کے لئے مقرر فرما ئیں اور انہوں نے تار کے ذریعہ اس درخواست کو منظور کیا اور اپنے ایک فرزند شہزادہ فیصل (موجودہ شاہ حجاز) کو اس غرض کے لئے ولایت روانہ کر دیا۔جب شہزادہ موصوف لندن پہنچے تو جماعت احمدیہ لنڈن کے انتظام کے ماتحت ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور