تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 575
تاریخ احمدیت جلد ۴ ہو گئی۔540 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال ۱۹۳۴-۳۵ء کا زمانہ تا ہو تو ان اور لہو سوکن کی جماعت کے لئے بھاری ابتلا کا زمانہ تھا کیونکہ اس میں جماعت کو تبلیغ بلکہ با قاعدہ نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔اسی طرح لہو سوکن کی جماعت کو وہاں کے راجہ نے اپنے مظالم کا تختہ مشق بنایا۔تاہم حق و صداقت کی اشاعت کا سلسلہ خطوط و مضامین اشتہارات و اخبارات اور مستقل کتابوں کی تصنیف کے ذریعہ بھی جاری رہا اور مباحثات کے ذریعہ بھی چنانچہ پاڑانگ میں ایک اور میڈان میں تین نہایت کامیاب مناظرے ہوئے پہلا مناظرہ مولوی محمد صادق صاحب نے پاڑانگ میں ایک عیسائی سے کیا۔جس نے دلائل سے عاجز آکر مولوی صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ " یہ شخص جنوں کو استعمال کرتا ہے "۔دوسرا مباحثہ مولوی ابو بکر ایوب سائری کا ایک عرب فاضل سے ہوا۔میڈان میں یہ پہلا نہ ہی مناظرہ تھا جس میں خدا کے فضل سے اس قدر کامیابی ہوئی کہ غیر احمدی اخباروں نے بھی احمدیت کی فتح کا کھلا کھلا اقرار کیا۔تیسرا اور چوتھا مباحثہ مولوی صادق صاحب اور مولوی ابو بکر ایوب صاحب نے ایک مجلس شرعی کے صدر سے کیا۔ان کے علاوہ انہی دنوں چھ اور مناظروں میں بھی اللہ تعالی نے کامیابی بخشی اور غیر احمدی علماء جو پہلے احمدیت کی مخالفت میں پوری قوت صرف کر رہے تھے اب احمدی مبالغوں کے مقابل پر آنے سے جھجھکنے لگے۔اب جاوا اور سماٹرا میں سلسلہ کی تبلیغ کا کام روز بروز وسیع ہو رہا تھا۔اس لئے حضور نے کیم فروری (الفضل ۴ فروری ۱۹۳۶ صفحه ) کو ملک عزیز احمد خانصاحب اور مولوی عبد الواحد صاحب سماٹری کو قادیان سے اور سید شاہ محمد صاحب کو سنگا پور سے وہاں بھجوایا۔۱۹۳۶۰۳۷ء میں مولوی ابو بکر ایوب صاحب نے سماٹرا میں قریبا دو ہزار میل کا تبلیغی سفر کیا۔اسی زمانہ میں کاروت (جاوا) میں احمدیہ مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔ایک پولیس خریدا گیا۔مولوی رحمت علی صاحب کچھ عرصہ مرکز میں تشریف لے گئے اور دوبارہ اکتوبر ۱۹۳۷ء میں واپس جاوا آئے اور تبلیغ سلسلہ میں مصروف ہو گئے۔ان دنوں گاروت میں مولوی الواحد صاحب ساری سورا بایا میں ملک عزیز احمد صاحب بھروا کر تو میں سید شاہ محمد صاحب اور تا سکما یہ میں محمد طیب صاحب فریضہ تبلیغ ادا کر رہے تھے۔ان مبلغین کی کوششوں سے احمدیت قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔ایک خاص اثر یہ بھی ہوا کہ دو جماعتوں کے سوا جو ظاہر امخالفت کرتی تھیں باقی مخالف جماعتیں ایک ایک کر کے میدان سے ہٹ گئیں۔نومبر ۱۹۴۰ء کے تیسرے ہفتہ میں مولوی رحمت علی صاحب بنادیہ (جاوا) سے سماٹرا میں آئے ۱۴ دن میڈان میں اور تین ماہ پاڈانگ میں رہ کر مارچ ۱۹۴۱ء میں واپس جاوا تشریف لے گئے قیام کے دوران میں آپ نے جماعت کو ر حفظ و نصیحت سے متمتع کیا۔آپ کی آمد پر پاڑانگ میں چار جلسے ہوئے