تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 574
تاریخ احمد بیت۔جند ۴ 539 خلافت ماسید کا بار تاہم احمدیت میں ان کے داخلہ کی رفتار پہلے سے تیز ہو گئی۔اور " تاپک تو ان " اور پاڑانگ کے بعد ڈو کو میں بھی جماعت قائم ہو گئی۔اور تبلیغ کو مزید وسعت دینے کے لئے مئی ۱۹۲۸ء میں کرائے کے ایک مکان میں با قاعدہ مشن ہاؤس قائم کر دیا گیا اس وقت تک جماعت سماٹرا میں ہی قائم ہوئی تھیں اور جاوا کا جزیرہ خالی پڑا تھا۔مگر ۳۰-۱۹۲۹ء میں سماٹرا کے ایک احمدی ابو بکر بگنڈو مہارا جو تجارتی کاروبار کے سلسلہ میں وہاں گئے اور جاوا میں بھی ایک مختصر جماعت پیدا ہو گئی۔irr ۱۳۴ چار سال کی محنت شاقہ کے بعد مولوی رحمت علی صاحب مرکز کی ہدایت پر ۱۹/ اکتو بر ۱۹۲۹ء کو واپس تشریف لائے آپ کے ساتھ ابوبکر صاحب ( پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ پاڈ انگ) اور ایک معزز دوست ڈمنگ دا تو ہوتی بھی تھے۔مولوی رحمت علی صاحب حضور ایدہ اللہ تعالٰی کے حکم سے دوبارہ ۶ / نومبر ۱۹۳۰ء کو روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ مولوی محمد صادق صاحب بھی تھے۔جنہیں حضور نے سماٹرا کی تبلیغ کے لئے منتخب فرمایا تھا۔یہ دونوں مبلغ ۲ دسمبر ۱۹۳۰ء کو پاڈ انگ پہنچے۔جہاں مولوی رحمت علی صاحب کچھ عرصہ مولوی محمد صادق صاحب کے ساتھ رہنے کے بعد اپریل ۱۹۳۱ء میں جاوا روانہ ہو گئے۔اور وہاں نئے دار التبلیغ کی بنیاد رکھی۔جاوا میں آپ کے رستہ میں بہت مشکلات تھیں۔مگر آپ نے استقلال سے مقابلہ کیا اور پہلے سال چپو بنادی (جاکر تا) اور بو گور میں جماعتیں قائم ہو گئیں - اور آپ کا مرکز بٹاوی میں تھا۔IRA جنوری ۱۹۳۵ء میں مولوی رحمت علی صاحب گارت اور تا سکما یا کے شہروں میں گئے اور مختلف انجمنوں میں تقریریں کرنے کے علاوہ عیسائیوں سے مباحثے کئے اس سے پہلے عام مسلمان عیسائیوں کے اعتراضات سے سخت پریشان تھے۔لیکن اب جو انہوں نے دیکھا کہ عیسائی احمدی مبلغ کے سامنے نہیں ٹھر سکتے۔تو انہوں نے مولوی صاحب کو بہت مبارکباد دی۔مگر علماء نے مخالفت شروع کر دی اور عوام کو بھڑکا یا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں مگریہی مخالفت بعض سعید روحوں کو احمد بیت میں لانے کا موجب بن گئی۔مولوی رحمت علی صاحب جادا جانے سے پہلے جو تبلیغی میدان قائم کر چکے تھے اسے مولوی محمد صادق صاحب نے اور وسیع کرنے کی طرف توجہ دی۔چنانچہ آپ نے پاڈانگ میں ایک پندرہ روزہ اخبار "اسلام" (مولوی احمد نور الدین صاحب سماٹری کی ادارت میں) نامی جاری کیا۔جو بعد کو ماہنامہ میں تبدیل کر دیا گیا۔اس رسالہ کے اجراء پر عیسائی اخبارات احمدیت کے مقابلہ میں آگئے۔اس کے علاوہ عیسائیوں سے عام مخط وکتابت کے ذریعہ بھی بحث ہونے لگی۔مئی ۱۹۳۴ء میں آپ نے سماٹرا کے دارالحکومت میڈان میں جاکر کام شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں ایک جماعت قائم