تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 31
تاریخ احمدیت جلد ۴ 23 سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت تشریف لائے اور سب بادام اٹھا کر جھولی میں ڈال لئے۔حضرت اقدس نے یہ دیکھ کر فرمایا یہ میاں بہت اچھا ہے یہ زیادہ نہیں لے گا۔صرف ایک یا دو لے گا۔باقی سب ڈال دے گا جب حضرت صاحب نے یہ فرمایا۔میاں نے جھٹ بادام میرے آگے رکھ دئے اور صرف ایک یا دو بادام لے کر چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زندہ ایمان ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالٰی حضور کی ہر بات صدق دل سے تسلیم کرتے تھے۔اور اس کی تلقین دو سروں کو بھی فرماتے۔چنانچہ بطور مثال آپ کے قلم سے لکھا ہوا ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا۔کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کہتے ہیں تو ایک ہی دفعہ کی تسبیح پر ہمیں خدا تعالٰی کا اس قدر قرب حاصل ہو جاتا ہے کہ دوسرا انسان ہزاروں ہزار ویسی تسبیح کر کے بھی اس سے اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔میں اس مجلس میں نہیں تھا کسی ہمارے ہم عمر نے یہ بات سن لی۔وہ مجھے ملے تو انہوں نے تعجب سے کہا۔پتہ نہیں اس میں کیا راز ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معلوم نہیں کسی تسبیح کا ذکر کیا۔اس نے مجھ سے ذکر کیا تو یہ بات فوراً میرے ذہن میں آگئی کہ ایک تسبیح دل سے نکلتی ہے اور ایک تسبیح زبان سے نکلتی ہے۔جب تسبیح دل سے نکلتی ہے تو یکدم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے اور جو تسبیح زبان سے نکلتی ہے وہ خواہ کوئی انسان ہزاروں دفعہ دہرائے وہ وہیں کارہیں بیٹھا رہتا ہے میں نے اسے کہا میں سمجھ گیا ہوں جو تسبیح دل سے نکلتی ہے اس کا اثر فورا ظاہر ہو جاتا ہے اور جو صرف زبان سے نکلتی ہے اس کا کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا" 12 وہ بزرگ جنہوں نے آپ کو انتہائی بچپن کے زمانہ سے دیکھا ہے بالاتفاق یہ گواہی دیتے ہیں کہ چھوٹی عمر سے ہی آپ کو دینی باتوں سے خاص شغف اور دلچسپی رہی ہے اور اگر چہ آپ ابتداء سے بہت کمزور اور دبلے پتلے ہوتے تھے اور اکثر صحت خراب رہتی تھی مگر اس زمانہ میں بھی مذہبی باتوں میں آپ ہمیشہ بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتے تھے۔اگر چہ وہ باتیں شروع شروع میں آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں اور نہ آسکتی تھیں تاہم آپ کو ان سے طبعاً ایک دلی لگاؤ اور گہرا تعلق تھا اسی تعلق کے باعث آپ نے بالکل چھوٹی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں جانا شروع کر دیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آپ کو نہایت محبت کے ساتھ اپنے شہ نشین پر دائیں طرف بٹھاتے تھے۔چنانچہ خود فرماتے ہیں۔" - صداقت ہمارے پاس ہے اور ہمارے کانوں میں ابھی تک وہ آوازیں گونج رہی ہیں جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست سنیں میں چھوٹا تھا مگر میرا مشغلہ یہی تھا کہ میں حضرت مسیح