تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 541
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 506 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال بغیر کورٹ کے پہنے ہوئے تھا تو وہ افغانستان کا سابق بے کسی بادشاہ تھا میں مبالغہ نہیں کرتا۔قمیض بھی صاف نہ تھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ کئی روز سے پہنی جارہی ہے۔۱۹۲۷ء کے زمانہ کو یاد کرو بھٹی میں کس زور سے استقبال کیا گیا تھا۔جہاز کا ایک حصہ مخصوص طور پر سجایا گیا تھا۔بڑی بڑی شاہی کرسیاں مزین تھیں جہاز کے اوپر ہوائی جہاز پرواز کر رہے تھے آج کیا ہے امان اللہ عام مسافروں کے ساتھ ہے وہ جب گزرتا ہے تو عام مسافروں کے ساتھ کھو اچھالتا ہے اگر اس دن زر بیعت کی پوشاک اور سر پر تاج تھا تو آج جسم پر کوٹ تک نہیں سرسے مجھے نظر آرہے تھے اور یاس وحزن کی ایک حرکت کرتی ہوئی تصویر دکھائی دیتی تھی۔وہ حسرت بھری نگاہوں سے ادھر ادھر نگاہ اٹھاتا اور اپنی اس حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ملکہ ثریا جو یورپ کی عورتوں میں اپنے فیشن اور اعلیٰ لباس کے باعث محبوب تھی۔آج معمولی لباس میں بال پریشان کئے عرشہ جہاز پر اپنے کیبن کے سامنے کھڑی تھیں پڑمردگی افسردگی ان کے چہرہ پر نمایاں تھی معلوم ہو تا تھا کہ اپنی سابقہ جاہ و حشمت کو یاد کر کے اور موجودہ حالت کا مقابلہ کرکے بے ہوشی کے عالم میں کھڑی ہجوم خلق کو جو بڑی بے توجہی کے ساتھ اس کے پاس کھڑا ہے دیکھ رہی ہے اس کا چھوٹا بچہ جسے ولی محمد سلطنت افغانستان شہزادہ ہدایت اللہ خان کہتے تھے اس کے پاس ہے وہ اپنی ماں کے ساتھ لپیٹ کر پوچھتا ہے "مادر جان ما کجا میبردیم - کون دل ہے جو ان الفاظ کو سن کر ٹوٹ نہ جاتا ہو ہمارے سوا شاہ نے اور کسی کو ملاقات کا شرف نہیں بخشا۔سیڑھی اٹھائی گئی اور جہاز نے لنگر اٹھانے کے لئے گھنٹی بجائی۔اب ہم نیچے اترے۔مولانا ظفر علی خان سے ملے اور ان کی جماعت میں شامل ہو گئے نیچے بہت سے لوگ جمع تھے جنہیں جہاز پر جانے کا موقعہ نہیں ملا جہاز کنارہ سے جدا ہوا اور صدائے اللہ اکبر امان اللہ خاں کو سنائی گئی اور اس کو یاد دلایا گیا کہ ایک سب سے بڑا بادشاہ ہے جسے چاہے تخت دے جیسے چاہے اس حالت میں وطن سے نکالے۔یہ خیال میرے دل میں تھا آنسو میری آنکھوں سے جاری تھے اور زبان پڑھ رہی تھی اللہم توتى الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء و تذل من تشاء امان اللہ خال و ثریا اور اس کے بچے سامنے کھڑے دیکھ رہے تھے اور نعروں کو سن رہے تھے اچانک مولانا ظفر علی خاں نے بلند آواز سے کہا۔"۔سلامت روی و باز آئی۔اس مصرعہ نے برقی کا کام کیا اور اس کو سنتے ہی امان اللہ خاں جو پہلے ہی مضموم و محزون تھے بے اختیار ہو گئے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور دیر تک خاموش کھڑے رہے پھر معا شاہ و ثریا دونوں اپنے کیبن میں چلے گئے معلوم ہوتا ہے کہ اس مصرعہ نے ان پر تیر کا کام کیا دو بجے کے قریب جہاز۔ساحل سے دور چلا گیا اور ہم لوگ واپس آئے وفيها عبرة لاولی الابصار - انقلاب لاہو ر ۲۹ جون ۱۹۲۹ء صفحه ۳) ۲۱۷- الفضل ۲۱/مئی ۱۹۴۷ء صفحه ۰۵ ۲۱۸- تفسير كبير (سورۃ التکویر ) صفحه ۱۹۶-۱۹۷ طبع اول (خان فقیر محمد صاحب نے ۱۹۳۱ء میں بیعت کی تھی) ۲۱۹ والد ماجد جناب ڈپٹی محمد شریف صاحب ۲۲۰ الفضل ۱۳۱ دسمبر ۱۹۶۱ء صفحه ۲- مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں پہلے چمڑے کا گودام ہوا کرتا تھا یہ زمین ساڑھے گیارہ ہزار روپیہ میں خرید کی گئی تھی رپورٹ صد را مجمن احمد یه ۱۸-۱۹۱۷ء صفحه ۴۸) ۲۲۱- الفضل ۳/ جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۱۲ سفر یورپ کے برکات کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو الفضل ۲۵/ نومبر ۱۹۲۴ ء و الفضل ۱۴ دسمبر ۰۶۱۹۲۴ ۲۲۲ الفضل ۱۸ / مارچ ۱۹۲۴ء صفحه ۱-۲- ۲۲۳۔شیخ صاحب مرض زیا بیطس میں مبتلا ہو کر ۲ / مارچ ۱۹۲۴ء کو فوت ہوئے۔حضرت خلیفتہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے شیخ صاحب کی بیماری کی خبر سنتے ہیں ۲۸ فروری ۱۹۲۴ء کو ذو الفقار علی خان صاحب کے ہاتھ اپنا ایک پر درد خط عیادت نامہ کے رنگ میں۔۔۔۔۔بھجوایا۔جس میں تحریر فرمایا میں نے بارہا حضرت مسیح موعود کو ر دیا میں دیکھا ہے اور یہ معلوم کیا ہے کہ جہاں دو سرے بعض لوگوں پر ناراض ہیں آپ سے کم ناراض ہیں یا صرف دوستانہ گلہ آپ سے رکھتے ہیں۔مجھے بعض اور خوابوں میں بھی آپ کے دل کی حالت بعض دوسرے لوگوں کی نسبت اچھی دکھائی گئی ہے۔اس لئے بھی اور ان متواتر خدمات کو یاد کرتے ہوئے جو آپ نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں کیس میرا دل آپ کی جدائی پر کڑھتا ہے"۔(الفضل ۱۱/ ۱۴ مارچ ۱۹۲۴ء صفحہ ۱۳-۲) حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے مولوی محمد اسماعیل صاحب تر گڑی والے جنہوں نے چینی مسیح لکھی تھی۔ان کی ایک بات مجھے بڑی اچھی لگتی ہے وہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے بعد مجھے ملے وہ چونکہ بڑھے تھے اس لئے