تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 518
تاریخ احمدیت جلد ۴ 495 خلافت ثمانیہ کا گیار هوار ا- احاطہ میں جماعت احمد یہ لاہور کی پہلی مسجد کی بنیاد رکھی گئی جو ۱۹۲۵ء کے قریب پایہ تکمیل تک پہنچی مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب امیر جماعت لاہور نے تعمیر مسجد کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس کے پریذیڈنٹ بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر اور سیکرٹری سید دلاور شاہ صاحب بخاری تھے۔مسجد کا نقشہ میاں محمد صاحب نے تیار کیا جو سکول آف آرٹس لاہور میں درک اوور سیر تھے۔اور اس کے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا سہرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی موجد مفرح عنبری) کے سر ہے چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں " حکیم محمد حسین صاحب قریشی جنہوں نے دہلی دروازہ والی مسجد بنوائی ان کے تعلقات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت قدیم اور مخلصانہ تھے "۔سالانہ جلسہ پر تقریریں حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۴ء کے موقعہ پر تین تقریر میں فرما ئیں۔افتتاحی تقریر جس میں استغفار و دعا کی طرف توجہ دلائی۔دوسری تقریر ” بہائی ازم کی تاریخ و عقائد" کے موضوع پر ہوئی۔جس سے دنیا پر پہلی بار واضح طور پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ بہائیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ بہاء اللہ صاحب کا دعوی خدا ہونے کا تھا۔حضور نے اپنی آخری اور تیسری تقریر میں پہلے مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کا ذکر کر کے قرآن و احادیث سے ثابت فرمایا کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا ہر گز رجم و قتل نہیں ہے۔اس کے بعد حضور نے اپنے سفر بلاد اسلامیہ ویورپ کے واقعات اور اس سفر کے تئیس عظیم الشان برکات و فوائد بیان فرمائے اور جماعت احمد یہ کوان کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حرم ثانی میں مرزا ۱۹۲۴ء کے متفرق مگر اہم واقعات خلیل احمد صاحب، حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں مرزا مجید احمد صاحب اور حضرت میر محمد اسحق صاحب کے ہاں سید داؤ د احمد صاحب کی ولادت ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے ۳/ مارچ ۱۹۲۴ء کو تعلیم الاسلام مڈل سکول کاٹھ گڑھ کا سنگ بنیاد رکھا۔صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب (اول) (فرزند حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) مولوی الحاج میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی حضرت سید فضل شاہ صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب - (مالک ۲۲۳