تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 517 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 517

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 494 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال تھے۔میری اس بات کو سن کر انہوں نے کہا کہ خان محمد اکرم خان صاحب چار سدہ والے میرے بھائی ہیں انہوں نے آپ کی بعض کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی ہیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ ولایت چلے گئے۔ابھی تین مہینے ہی گزرے تھے کہ مجھے ایک چٹھی پہنچی اس کے شروع میں ہی یہ لکھا تھا۔۔۔۔کہ میں وہ ہوں جو آج سے تین ماہ پہلے دہلی کے شاہی قلعہ میں آپ سے ملا تھا۔اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہم نے پورا پورا انصاف کیا ہے اٹھنی آپ کو دے دی ہے اور اٹھنی غیر احمدیوں کو دے دی ہے جس پر آپ نے کہا تھا کہ ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔سو آپ کے حکم کے مطابق اب ایک چوٹی آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور اپنے آپ کو بیعت میں شامل کرتا ہوں۔۔۔اور لکھا کہ جب میں ولایت میں آیا اور میں نے مختلف مقامات کی سیر کی تو گو میں پٹھان ہوں اور مذہبی جوش میرے دل میں موجود ہے مگر کفر کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر میرا دل پڑ مردہ ہو تا چلا گیا۔مجھے یقین ہو گیا کہ اب اسلام دنیا پر غالب نہیں آسکتا۔ایک دن میرے دل پر اس خیال کا بے انتہا اثر ہوا۔اور حالت مایوسی میں میں نے کہا آؤ ان کتب کو پڑھ کر دیکھو جو میرے بھائی نے میرے ٹرنک میں رکھ دی تھیں۔چنانچہ پہلے " اسلامی اصولی کی فلاسفی " نکلی اور اسے میں نے پڑھا اس کے بعد آپ کی کتاب ”دعوۃ الا میر" نکلی اور اسے میں نے پڑھنا شروع کیا۔پڑھتے پڑھتے اس کتاب میں وہی ذکر آگیا جس نے میرے دل میں انتہائی طور پر مایوسی پیدا کر دی تھی یعنی اسلام کے تنزل اور اس کے ادبار کا اس میں ذکر تھا۔مگر ساتھ ہی بتایا گیا تھا کہ رسول کریم ﷺ نے اسلام کے تنزل کے متعلق یہ پیشگوئی کی تھی جو پوری ہو گئی۔غرضیکہ بعد دیگرے اسلامی تنزل کے متعلق کئی پیشنگوئیاں تھیں جو پڑھنے میں آئیں اور جو واقعہ میں پوری ہو چکی تھیں۔اس کے بعد آپ نے اسلام کی ترقی کے متعلق رسول کریم ان کی پیشگوئیوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب رسول کریم ہے کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں جو اسلام کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں۔تو وہ پیشگوئیاں کیوں پوری نہیں ہوں گی۔جو اسلام کے دوبارہ غلبہ کے متعلق ہیں۔میں نے جب یہ مضمون پڑھا تو میرا دل خوشی سے بھر گیا۔۔۔۔اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں اس وقت تک سونے کے لئے اپنے بستر پر نہیں جاؤں گا جب تک آپ کو اپنی بیعت کا خط نہ لکھ لوں۔چنانچہ سونے سے پہلے میں یہ خط آپ کو لکھ رہا ہوں میری بیعت کو قبول کیا جائے "۔احمدیہ مسجد لاہور کی تعمیر خلافت ثانیہ کے آغاز سے لے کر ۱۹۲۳ء تک جماعت احمدیہ TIA لاہور کے احباب حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کے گھر واقع بیرون دہلی دروازہ) پر نمازیں پڑھتے تھے اور یہی جگہ بطور مہمان خانہ استعمال ہوتی تھی مگر ۱۹۲۴ء میں حضرت میاں چراغ دین صاحب اور حضرت میاں سراج دین صاحب کے مشترکہ