تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 495 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 495

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 471 خلافت عثمانیہ کا گیارھواں۔دے دیئے گئے۔" حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو اس حادثہ کا علم ہوا تو حضور نے بذریعہ تار مولوی شیر علی صاحب کو ہدایت فرمائی کہ یہ حادثہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں نہایت اہم ہے سلسلہ کی حفاظت نہایت ضروری ہے اپنے طور پر تحقیقات کریں اگر اس میں احمدیوں کا قصور نکلے تو ان کو تنبیہہ کی جانی چاہئے اور جو شخص یا اشخاص اس فساد کے اصل بانی ہوں ان کا مقاطعہ کرنے کے متعلق میرے پاس رپورٹ آنی چاہئے۔لیکن اگر وہ مظلوم ہوں تو انہیں اپنے سلسلہ کا احترام قائم رکھنے کے لئے ہر طرح سے پوری امداد دینی چاہئے بھیرہ کے احمدیوں کو ہدایت کر دی جائے کہ وہ اپنے تمام بیانات وغیرہ میں صداقت اور محض صداقت کو اختیار کریں " اس ارشاد پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب مولوی فضل الدین صاحب وکیل اور مولوی فضل اللہی صاحب نے نہایت محنت سے تحقیقات کر کے مفصل رپورٹ دی کہ بھیرہ کے احمدی مدتوں کی دشمنی اور ایک مولوی صاحب کے اشتعال کا شکار ہوئے ہیں۔دار التبلیغ ایران حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۲ جولائی ۱۹۲۴ء کو شہزادہ عبد المجید صاحب لدھیانوی کو ایران میں احمد یہ مرکز قائم کرنے کے لئے روانہ فرمایا۔آپ کے ہمراہ مولوی ظہور حسین صاحب اور محمد امین خان صاحب بھی تھے۔جن کو بخارا میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔حضرت شہزادہ صاحب جو اس تبلیغی وفد کے امیر تھے اپنے دو سرے ساتھیوں سمیت ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو ایران کے مشہور شہر مشہد میں پہنچے اور پانچ چھ دن کے بعد مشہد سے طہران (دار الخلافہ ایران) میں تشریف لے گئے اور وہاں نیا دار التبلیغ قائم کیا۔حضرت شہزادہ عبد المجید صاحب ضعیف العمر بزرگ اور قدیم صحابہ میں سے تھے اور نہایت اخلاص سے اپنے خرچ پر آئے تھے۔مگر اخراجات یہاں آکر ختم ہو گئے۔پیچھے کوئی جائیداد تھی نہیں۔مرکز سے مستقل مالی امداد ان کو دی نہیں جاتی تھی۔اس لئے آخر عمر میں بعض اوقات اپنے زائد کپڑے فروخت کر کے گزارہ کرتے تھے۔اور جیسا کہ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے آپ معمولی سی صف اور نہایت مختصر سے بستر پر رات بسر کیا کرتے تھے۔یہاں تک نوبت آجاتی کہ کپڑے دھونے کے لئے خرچ باقی نہ رہتا۔بایں ہمہ آپ نے آخر دم تک اپنا عہد نبھایا اور اپنی بے نفس خدمات سے با قاعدہ جماعت قائم کر دی ۲۳ فروری ۱۹۲۸ء کو تہران میں انتقال فرما گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کی وفات پر فرمایا۔"شہزادہ عبد المجید صاحب۔۔۔۔۔۔۔افغانستان کے شاہی خاندان سے تھے اور شاہ شجاع کی نسل سے