تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 471 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 471

447 خلافت عثمانیہ کا گیارھواں فرائض سپرد کر کے ایک انتظامیہ کمیٹی قائم کر دی جس کے پریذیڈنٹ چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور سیکرٹری مولوی محمد الدین صاحب کو تجویز فرمایا۔ملک غلام فرید صاحب مکرمی مولوی محمد الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کو پریس سے رابطہ کے لئے مقرر فرمایا۔ہندوستان میں سفر کی مفصل رپورٹ بھیجوانے کا کام ابتداہی سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ذمہ تھا جو وہ برابر سرانجام دے رہے تھے۔ڈاک کی خدمت حافظ روشن علی صاحب ، چوہدری محمد شریف صاحب وکیل شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو اور ملاقات کی خدمت ذو الفقار علی خان صاحب، چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے سپرد ہوئی۔اور بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور چوہدری علی محمد صاحب کو خوردنوش کے انتظامات پر لگایا گیا۔چوہدری علی محمد صاحب کو چونکہ اکثر حضور کی خدمت میں بھی حاضر رہنا پڑتا تھا اس لئے زیادہ ذمہ داری حضرت بھائی صاحب پر تھی۔جو اپنی اصل ڈیوٹی کے علاوہ گاہے گاہے جماعت ہندوستان کو حالات سے باخبر رکھنے کے لئے خطوط بھی لکھتے تھے اور حضور کی ڈاک کے لئے بھی وقت دیتے تھے۔انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ حضور نے قیام لندن کے پہلے ہفتہ میں ایوننگ سٹینڈرڈ اور اخبار ”سٹار " کے نمائندوں کو انٹرویو دیا۔ڈاکٹر عبدالمجید شاہ صاحب لاہوری اور مسٹر عبد اللہ کو (انگریز) کو شرف ملاقات بخشا اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیال فرمایا۔حضرت حافظ روشن علی صاحب کے تصوف " کے مضمون پر نظر ثانی فرمائی اور ضروری ہدایات کے ساتھ مولوی محمد دین صاحب کو ترجمہ کے لئے دیا۔یہ مضمون ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۴ء کو مولوی محمد دین صاحب ہی نے پانچ بجے شام سر پیٹرک نگن کی صدارت میں سنایا اور بہت مقبول ہوا۔اس ہفتہ حضور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ہمراہ ویمبلے اور انڈیا آفس میں تشریف لے گئے۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ انگلستان نے اخبارات کے نمائندوں کو دعوت دی۔جس میں مذاہب کانفرنس کی انتظامیہ کے بعض ممبر ( کرنل سینگ ہینڈ اور مس شارپلز) بھی شریک ہوئے۔اس دعوت میں حضور نے اہل انگلستان کے نام ایک مفصل پیغام دیا۔جس کا فصیح و بلیغ انگریزی زبان میں فی البدیہ انگریزی ترجمہ مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے سنایا - فرمایا۔میں اس محبت اور اس اخلاص کی وجہ سے جو بنی نوع انسان سے رکھتا ہوں اور جو میں سمجھتا ہوں کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی صحبت اور اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے انگلستان آیا ہوں۔میں ان پیشگوئیوں کی وجہ سے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے کیں اس امر پر یقین رکھتا ہوں کہ مغرب جلد ان صداقتوں کو قبول کرے گا جو بانی سلسلہ احمدیہ جن کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی اور کل مذاہب کے موعود ہونے کا تھا