تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 433 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 433

تاریخ ام احمدیت۔جلد ۴ 425 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال دوسری دلیل ان کی یہ ہے کہ اس وقت جب کہ ہم مغربی ممالک میں مشن قائم کر رہے ہیں سلسلہ کے امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان ممالک کو دیکھ کر اپنی آنکھوں سے وہاں کے حالات کا مطالعہ کرے تا تبلیغ کے لئے ایسی سکیم تیار ہو سکے جو مکمل ہو اور مرکز اور مبلغین کا تعلق زیادہ مضبوط ہو جائے۔تیسری دلیل یہ لوگ یہ دیتے ہیں کہ امام جماعت کے ساتھ جو ایک جماعت کارکنوں کی جائے گی وہ دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ مل کر اور واقفیت حاصل کر کے زیادہ عمدگی سے کام کر سکے گی۔اور اس کا نقطہ نگاہ وسیع ہو کر اسے معلوم ہو جائے گا کہ باہر جانے والے مبلغین کے لئے کیا وقتیں ہیں اور دنیا کیا کر رہی ہے اس کے مقابلہ کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔دوسرا فریق جو مخالف ہے اس کے دلائل یہ ہیں کہ اس وقت تک ان ممالک میں سلسلہ کی عظمت پوری طرح قائم نہیں اس لئے خلیفہ کا ایسے وقت میں جانا سلسلہ کی شان کے خلاف ہے۔دوسرے یہ کہ مرکز سے خلیفہ وقت کا باہر جانا گو عارضی ہو مگر موجب فتنہ ہو سکتا ہے۔تیسرے یہ کہ جو غرض خلیفہ کے جانے سے ہے وہ دوسری طرح پوری ہو سکتی ہے۔چند عالم بھیج دیئے جاویں جو وہاں جا کر تبلیغ کریں۔جب وہ ممالک تیار ہو جائیں تو پھر خلیفہ وقت کا باہر جانا بھی درست ہو سکتا ہے جو لوگ میرے جانے کا مشورہ دیتے ہیں وہ یہ ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب، چوہدری فتح محمد صاحب، عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب ذو الفقار علی خان صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب مولوی رحیم بخش صاحب میر قاسم علی صاحب قاضی ظہور الدین صاحب ، ماسٹر عبد المغنی صاحب حافظ روشن علی صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری - جو لوگ میرے جانے کے خلاف مشورہ دیتے ہیں وہ یہ ہیں۔مولوی شیر علی صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب میر محمد اسحاق صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کو یا گیارہ رائیں تو میرے جانے کی تائید میں تھیں اور پانچ اس امر کے حق میں تھیں کہ میرا جانا ٹھیک نہیں کوئی اور آدمی بھیجے جاویں۔اس مشورہ کے بعد میری رائے اس طرف مائل تھی کہ میرے جانے کے بعد ان ملکوں کے مشنوں کو اور زیادہ مضبوط کرنا پڑے گا کیونکہ تحریک کر کے خاموش ہو جانا ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے زیادہ نقصان ہو گا اور اگر مضبوط کیا جاوے تو روپیہ زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔پھر اگر میں گیا تو چونکہ ساتھ زیادہ آدمی ہوں گے اس لئے روپیہ زیادہ خرچ ہو گا اور جماعت پر بوجھ پہلے ہی زیادہ ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب اور حافظ روشن علی صاحب کو بھیج دیا جاوے۔