تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 432
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 424 خلافت ماشیہ کا گیارھواں سال یہ نمائش اب کھل گئی ہے اور ایسے بڑے پیمانے پر ہے کہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ تجارت کی ترقی کو مد نظر رکھ کر اور ملکوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے دو کروڑ آدمی کے قریب اس کو دیکھنے آئے گا۔غرض ان دنوں میں دنیا کے ہر گوشے کے تعلیم یافتہ آدمی انگلستان میں جمع ہوں گے اور گویا تمام دنیا چھوٹے پیمانے پر اس جگہ جمع ہو جائے گی۔چینی، جاپانی، امریکن ، روی، فرانسیسی، جرمن، ترک عرب مصری امیرانی افغانی ہندوستانی اور دوسری چھوٹی بڑی قوموں کے تعلیم یافتہ اور سمجھدار طبقہ کے لوگ وہاں جمع ہوں گے اور چھ ماہ تک ایسا ہی جھمگٹا وہاں رہے گا۔اس اجتماع سے فائدہ اٹھا کر انگلستان کے مذہبی مذاق کے لوگوں نے تجویز کی ہے کہ ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے شروع میں وہاں ایک مذہبی جلسہ کیا جائے۔جس میں ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی حقیقت کو کھول کر بیان کریں اور ساری دنیا کو ان کے اصل عقیدہ اور غرض کا علم ہو جائے۔اس انجمن نے اپنے جلسہ میں تقریر پڑھنے کی مجھے بھی دعوت دی ہے اور درخواست کی ہے کہ میں خود وہاں جا کر اپنے سلسلہ کے متعلق ان کو علم اور واقفیت بہم پہنچاؤں۔ایسے عظیم الشان موقع سے تبلیغ کا فائدہ اٹھانا تو ہمارا فرض ہے کیونکہ ایسا موقعہ کہ اس کثرت سے ساری دنیا کے ملکوں کے اعلیٰ طبقوں کے لوگ جمع ہوں اور گویا ساری دنیا ایک ہی وقت میں اکٹھی ہو جائے۔روز بروز نہیں ملتا اس نمائش کی نسبت خیال کیا جاتا ہے کہ سو سال تک ایسی بڑی نمائش پھر انگریزوں کے لئے کرنی مشکل ہو گی۔اس وقت گویا انگلستان میں بیٹھ کر ہم ساری دنیا کو خدا کا پیغام پہنچا سکتے ہیں اور کروڑوں آدمیوں کو سلسلہ کی حقیقت سے واقف کر سکتے ہیں اور دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہ سکتا جو اس ذریعہ سے سلسلہ سے واقف نہ ہو جائے مگر سوال یہ ہے کہ یہ کام کیا کس طرح جائے؟ میں نے اس مذہبی کانفرنس کی دعوت پر قادیان کے احباب کو جمع کر کے مشورہ لیا تھا۔سولہ احباب میں سے گیارہ کا مشورہ یہ تھا کہ اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے اور آپ کو خود جانا چاہئے۔اور مہینہ ڈیڑھ مہینہ رہ کر نہ صرف مذہبی کانفرنس میں شامل ہوں بلکہ اس سے پہلے اور بعد انگلستان اور دوسرے ممالک کے لوگوں کو ملاقات کا موقعہ دے کر سلسلہ کی طرف ان کی توجہ کو کھینچیں۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ ہر مذہب اور ہر علم کے جانے والے لوگ وہاں جمع ہوں گے اس لئے اس موقعہ پر صرف میرے ہی جانے سے ان لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے اور دوسروں کے جانے سے ان کی توجہ نہ اس طرف منعطف ہوگی نہ دوسروں کی باتوں سے ان کو ایسی تسلی ہوگی یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ساری دنیا کو خبر دار کر دینے سے تمام دنیا کی حق کی طالب رد میں سلسلہ کی تحقیق میں لگ جائیں گی اور شاید بعض ملک آپ ہی اپنے ملک میں مشن قائم کرنے کی درخواست کریں۔