تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 423 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 423

تاریخ احمدیت جلد ۴ خالد - اگست ۱۹۵۶ء صفحہ ۷- 14 الفضل ۱۲ / مارچ ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۳ الفضل ۱۵ / مارچ ۱۹۲۳ء صفحه ۵-۶- الفضل ۱۵/ مارچ ۱۹۲۳ء صفحه ۸-۱۲- 415 ۲۲ ملاحظہ ہو ر پورت مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء صفحه ۵۵ ۲۳ فہرست کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۱ / اگست ۱۹۲۳ء صفحہ ۲۰۱ ۲۴ کارزار شد هی صفحه ۴۳-۲۵ (از ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم) خلافت نامید کا دسواں سال ۲۵ حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۳ ء پر حضرت چوہدری صاحب موصوف کو کمانڈر انچیف کے خطاب سے بھی یاد فرمایا تھا۔(الفضل اار جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۷) ۲۶ الفضل ۱۵/ مارچ ۱۹۲۳ صفحه ۱-۳- جناب ملک فضل حسین صاحب کا نام بھی اس وفد میں شامل تھا مگر جب آپ وفد کے ساتھ قادیان سے روانہ ہونے لگے تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کی تجویز پر انہیں قادیان میں رہ کر میدان ارتداد کے لئے یعنی علمی اسلحہ تیار کر کے بھجوانے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ آپ نے آریہ دھرم کے خلاف ان ہی دنوں دس ٹریکٹ چالیس ہزار کی تعداد میں شائع کر دیئے۔۲۷ کارزار شد هی صفحه ۳۹ ۲۸ الفضل ۱۵ اپریل ۶۱۹۲۳ ۲ ریویو آف ریلیجز اردو جون ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۵-۱۶- ایضا الفضل ۹/ اپریل ۱۹۲۳ء صفحہ ۹- ایک سناتنی اخبار جا گرت نے ۱۳/ اپریل ۱۹۲۷ء کی اشاعت میں لکھا۔دولت کا جھو ٹالالچ دے کر ایرے غیرے کسی کو مونڈھ لینا شد ھی نہیں۔(بحوالہ وکیل امر تسر لا ر مئی (۱۹۲۷ الفضل ۵ / اپریل ۱۹۲۳ء صفحه ۶-۰۸ الفضل ۱۷ مئی ۱۹۲۳ء صفحہ ۵- ایضا تبرکات آزاد ( مرتبہ غلام رسول مهر) ۳۲ الفضل ۱۸/ تمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱-۲- میری کہانی (از ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم غیر مطبوعه والفضل ۱۹/ اکتوبر ۱۹۲۳ء صفحه ۲ دم مورخه ۱۵/ اکتوبر ۱۹۲۳ء بحوالہ الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۲۳ء صفحه ۵ پر تاپ (لاہور) ۱۴ جون ۱۹۲۴ء صفحہ ۹ بحوالہ محاکمہ مابین آریہ سماج اور گاندھی۔صفحہ ۵- (مؤلفه ماشه فضل حسین صاحب احمدی مهاجر ) طبع اول ۱۹۲۳ء ۳۵ کارزار شد هی صفحه ۴۲ - الفضل ۹/ اپریل ۱۹۲۳ء صفحه ۴ -14 الفضل ۱۵ اپریل ۱۹۲۳ء صفحه ۵- ۳۷۔جمیا کو احمد کی مجاہدین سے بہت محبت تھی اپنے بچوں سے زیادہ الفت کرتی تھی اور بہت ہمدرد تھی۔اس کے بیٹوں نے چونکہ اسے باہر جانے سے روک رکھا تھا اس لئے اکثر رات کو چھپ کر احمدی مبلغین کے پاس آتی اور اپنا دکھ درد سناتی تھی۔(کارزار شدھی صفحہ ۷۷) - الفضل ۵/ اپریل ۱۹۲۳ء صفحه ۷- ۳۹ چوہدری افضل حق صاحب اپنی کتاب فتنہ ارتداد اور پولٹیکل قلابازیاں میں لکھتے ہیں " انجمن ہدایت الاسلام کی زیر نگرانی رودک تمام شروع ہوئی ایک جگہ سے یک صدرو پسیہ کی گرانقدر رقم بھی ماہانہ امداد کے طور پر ملی تنخواہ دار مبلغ رکھے گئے لیکن نہ اوپر سے عمرانی ہوئی نہ دل میں بچی تبلیغ کا جذبہ تھا۔مولوی صاحبان جس گاؤں میں جاتے وہاں وعظ فرماتے اور وعظ کے بعد باوجود تنخواہ دار ہونے کے اپنے ذاتی مصارف کے لئے بھیک مانگتے۔علاوہ ازیں سنا گیا ہے کہ بعض بد اخلاقی کی حرکتیں بھی کر بیٹھتے جس سے ان لوگوں کے دل میں اسلام کے متعلق نہایت ذلیل خیال بیٹھ گیا۔“ جناب ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم کا بیان ہے کہ میں نے محسوس کیا کہ اس علاقے میں سادھوؤں کی بے حد تعظیم اور مولویوں سے "