تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 15
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 15 یدنی مسرت سہ سے خلیفہ آسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت حضرت مسیح موعود اور حضرت ام سیدنا حضرت محمود سلمہ الودود اپنے مقدس والدین کے جتنے لاڈلے بچے تھے اتنا ہی زیادہ المومنین کی آغوش میں خاص تربیت آپ کی تربیت کا خیال رکھا جاتا تھا۔اس سلسلہ میں سب سے موثر ذریعہ تو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین کی پاک اور مطہر اور خدا نما زندگی تھی جس کے آئینہ میں دنیا کے مربی اعظم رسول خدا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی کی تصویر پوری طرح نمایاں اور ہویدا تھی۔اور آفتاب نبوت کی تیز شعاعین اس سے منعکس ہو کر کاشانہ مسیحیت و مہدویت کو منور کرتی رہتی تھیں۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین دونوں شروع ہی سے خاص اہتمام فرماتے تھے کہ ان کے پیارے محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی تربیت خالص اسلامی و روحانی ماحول میں ہو اور خدائی وعدوں کے مطابق آپ کا وجود عصر حاضر کے لئے ایک مثالی وجود ثابت ہو۔آپ کے لئے درد و سوز سے دعاؤں کا سلسلہ تو آخر دم تک جاری رہا۔اس کے ساتھ ساتھ حضرت اقدس کو شش فرماتے رہے کہ آپ کے اخلاق و عادات پر ہمیشہ نیکی ، تقویٰ اور پر ہیز گاری کا رنگ ہی غالب رہے اور چونکہ آپ کی ولادت خدائی بشارتوں کے ماتحت ہوئی تھی۔اور آپ کا وجود مشیت خداوندی سے انوار سماوی کا حامل ہونے والا تھا۔اس لئے اگر آپ کے عہد طفولیت میں کوئی ایسی بات ہوتی جو اگرچہ صغرسنی کے اعتبار سے تو قابل التفات نہیں ہو سکتی تھی لیکن حضور اسے آپ کی عالی دبلند شان کے منافی سمجھتے۔تو آپ کو بلا تامل توجہ دلا دیتے۔چنانچہ آپ نے اس امر کی ایک لطیف مثال خود بیان فرمائی ہے۔" مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایا گیا تھا۔میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ایسے دیکھ کر کہا۔محمود ! اس کا گوشت حرام تو نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا۔بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آواز سن کر کان لذت حاصل کریں "۔اس ضمن میں حضور کے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ " البدر" میں یہ لکھا ہے کہ۔"مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے مجمع شعید الاذہان میں ایک دفعہ یہ۔۔۔۔مضمون طلباء کو دیا گیا کہ علم اور دولت کا مقابلہ کرو۔" صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس پر بہت غور و فکر کی اور بعض ہم مکتب اور ہم جماعتوں سے بھی بحث کی۔مگر جب آپ کے قلب مطہر نے علم اور دولت میں سے کسی کو کافی اور یقینی طور پر بہتر ہونے کا فتویٰ نہ دیا تو آپ اپنے ابا جان امام الوقت کے ساتھ کھانا کھاتے