تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 394 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 394

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 386 خلافت ثانیہ دسواں سال حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل پر مشتمل تھا) ناظم ریاست سے ملاقات کی اور یہ ظالمانہ حکم واپس لینے کی اپیل کی۔مگر ریاستی حکام ٹس سے مس نہ ہوئے اور مجاہدین کو ریاست سے باہر ملحقہ دیہات میں قیام پذیر ہو کر ریاست کے مرتد مسلمانوں سے رابطہ قائم کرنے کے مختلف ذرائع اختیار کرنے پڑے۔مجاہدین احمدیت کا بے مثال استقلال احمدیت کے رستہ میں قدم قدم پر مشکلات و مصائب کے پہاڑ کھڑے کئے گئے مگر اسلام کے A جانباز سپاہی بڑے وسیع حو صلہ اور استقلال اور مضبوط ارادے کے ساتھ شدھی کا قلعہ توڑنے میں دیوانہ وار مصروف ہو گئے۔اسلام کی تائید میں لٹریچر پھیلایا۔ملکانہ بچوں کے لئے سائد ھن پر کھم صالح نگر کھڑوائی وغیرہ متعدد مقامات پر مدارس قائم کئے۔ہسپتال کھولے ، پرانی مسجد میں مرمت کر کے آباد کیں اور نئی مسجد میں تعمیر کیں مجالس اور پبلک جلسوں کے ذریعہ اسلام کی منادی کی اور جب اور جہاں بھی آریوں نے مناظرے کی طرح ڈالی چیلنج دیئے احمدی اپنی جان کو جو کھوں میں ڈالتے ہوئے میدان مناظرہ میں کو دپڑے اور آریوں کے پیش کردہ دلائل کی دھجیاں بکھیر ڈالیں۔چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے بھونگاؤں ، ہموری، متھرا، آگرہ، ساند ھن ، مین پوری اور دہلی میں کامیاب مناظرے کر کے کئی اہم ممیں سر کیں۔یہ مجاہدانہ سرگرمیاں دیکھ کر مشہور مسلم اخبار "زمیندار" جو پہلے ہی جماعت کے تبلیغی کارناموں کو دیکھ کر رطب اللسان تھا اور زیادہ تعریف کرنے لگا۔چنانچہ اخبار "زمیندار" نے لکھا۔جو حالات فتنہ ارتداد کے متعلق بذریعہ اخبارات علم میں آچکے ہیں ان سے صاف واضح ہے که مسلمانان جماعت احمدیہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں۔جو ایثار اور کمر بستگی ، نیک نیتی اور توکل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے اندازہ عزت اور قدر دانی کے قابل ضرور ہے۔جہاں ہمارے مشہور پیر اور سجادہ نشین حضرات بے حس و حرکت پڑے ہیں۔اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت کر کے دکھادی ہے "۔قادیانی احمدی اعلیٰ ایثار کا اظہار کر رہے ہیں۔ان کا قریباً ایک سو مبلغ امیر وفد کی سرکردگی میں مختلف دیہات میں مورچہ زن ہے۔ان لوگوں نے نمایاں کام کیا ہے۔جملہ مبلغین بغیر تنخواہ یا سفر خرچ کے کام کر رہے ہیں۔ہم گو احمدی نہیں لیکن احمدیوں کے اعلیٰ کام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جس اعلیٰ ایثار کا ثبوت جماعت احمدیہ نے دیا ہے۔اس کا نمونہ سوائے متقدمین کے