تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 379
تاریخ احمدیت جلد ۴ 371 خلافت ثانیه کا دسواں سال رہے تھے۔میں نے ان سے ملاقات کی۔وہ جان محمد خان صاحب رئیس اور بھیجو خان صاحب نمبردار کو لیکر علیحدہ چلے گئے اور ان سے کچھ باتیں دریافت کیں اور پھر واپس آکر میرے ساتھ باتیں کرنے لگے۔کہنے لگے مجھے از حد خوشی ہوئی ہے۔میں آپ کے کام اور اخلاق کے بارے میں آپ کی عدم موجودگی میں بھی اچھی تحقیق کر چکا ہوں اور آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔اور پوچھنے لگے کہ آپ کے پاس کیا کوئی کاپی ہے؟ میں نے انہیں کا پی دی۔انہوں نے اس پر لکھ دیا کہ میں فلاں تاریخ کو نگلہ گھنو میں اچانک پہنچا اور مکرم مولوی محمد حسین صاحب کا کام دیکھ کر اور اہل دیہہ سے حالات دریافت کر کے مجھے اتنی خوشی ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔اس علاقہ کے لئے مولوی صاحب نہایت موزوں ہیں اگر کچھ عرصہ یہ ان لوگوں میں مزید رہیں تو یہاں کے رہنے والوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔اہل دیہہ ان سے بہت خوش ہیں۔میں مولوی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مبارکباد دیتا ہوں۔اگر اسی طرح مستعدی سے کام ہو تا رہا تو بچے تعلیم حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے "۔والسلام نذیر احمد وکیل جے پور ۵/۲۳ / ۲۱ حال نگہ گھنو۔میں نے اس سرٹیفکیٹ کی ایک نقل آگرہ روانہ کردی۔بعدہ ارد گرد کے دیہات لوہاری گومیٹہ ہیکہ ھوڑا مجمولہ نگلہ امر سنگھ گڑھی، دھروی، علی گنج ، رانی کا رامپور بوپارہ وغیرہ کا دورہ کرنا شروع کر دیا۔لوہاری گاؤں میں ہمارے ایک مبلغ مولوی عبد الخالق صاحب بڑی محنت سے کام کر رہے تھے۔وہ ان دنوں احمد نگر ضلع جھنگ کے صدر ہیں۔انہوں نے مجھ سے مشورہ کئے بغیر دیو بندیوں سے مناظرہ مقرر کر لیا۔مقررہ تاریخ پر کافی مولوی صاحبان لوہاری پہنچ گئے اور ہماری طرف سے مولوی جلال الدین صاحب شمس ، مولوی غلام احمد صاحب بد و ملی، سیٹھ خیر الدین صاحب آف لکھنو ، قاضی عبدالرحیم صاحب اور اسلم صاحب آف فرخ آباد - غرضیکہ کافی احباب پہنچ گئے۔مجھے مناظرہ کی شرائط طے کرنے کے لئے بھیجا گیا۔میری واپسی پر مناظرہ کا آغاز ہوا۔حیات و ممات مسیح پر دیوبندیوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ ان قادیانیوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے اور کسی طریق سے ان کا علاج نہیں ہو سکتا۔میرے گاؤں کے لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر علم کی بحث کرتا ہے تو مولویوں سے کرو اور اگر کسی سرے نے ڈنڈا چلاتا ہے تو ہم پر چلائے۔غرضیکہ مناظرہ اسی شور میں بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔فریقین اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔جب اس بات کی اطلاع حضور کو قادیان پہنچی کہ دیو بندیوں نے ہمیں ڈنڈے سے ڈرایا ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کے گاؤں والوں نے انہیں ایسا جواب دیا ہے تو حضور بہت خوش ہوئے کہ یہ ہمارے مبلغ کے تعلقات کا نتیجہ ہے اور مبلغین کو ہر جگہ ایسا ہی نمونہ اختیار کرنا چاہئے۔غرضیکہ حضور نے یہ خوشنودی کا اظہار فرمایا میرے وہاں دورے کا تین ماہ کا عرصہ