تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 378 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 378

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 370 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال آپ اسے جھوٹا بتا رہے ہیں کیونکہ پنڈت صاحب نے تاکید کی ہوئی ہے کہ جس طرح شادی بیاہ ہے اسی طرح نیوگ ہے مگر جو بیاہ سے پیدا ہوں ان کا اظہار تو بڑی خوشی سے کیا جاتا ہے مگر جو نیوگ سے پیدا ہوتے ہیں آپ ان کی کوئی فہرست نہیں دکھا سکتے تو معلوم ہوا کہ یہ معیوب چیز ہی ہے۔ٹھاکر صاحب کہنے لگے کہ مسلمانوں میں بھی عیب ہیں۔ان کے ہاں بھی بہت بازاری عورتیں موجود ہیں۔میں نے کہا ٹھا کر صاحب یہ کوئی قومی یا ن ہی اعتراض نہیں ہے۔ہم نے تو مذ ہبی گفتگو کرتا ہے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ دین حق ایک عالمگیر مذہب ہے۔اس کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ ایسا فعل کیا جائے بلکہ ایسا نعل کرنے والے کی دین حق نے بہت سخت سزار کھی ہوئی ہے۔یعنی سو ۱۰۰ کوڑوں کی سزا۔کسی شخص کا یہ فعل کرنا شخصی جرم ہے مذہبی نہیں۔دوسرا ایسی بد کار عورتوں کا ہندوؤں کے بازار میں بیٹھنا بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ مسلمان ایسی بد کار عورتوں کو اپنے محلے میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ ایسی عورتیں ہندوؤں کے بازار میں آ جاتی ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں بھی نیوگ کی تعلیم ہے اس لئے یہ بازار میں بھی برا نہیں منائیں گے۔میں نے سوال کیا کہ ٹھاکر صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پچھلے جنم میں آپ کیا تھے اور پھر کیا آپ اچھے کام کر کے اپریشک آدمی بنے ہیں۔ٹھاکر صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ میں کسی بڑے پنڈت کو لیکر کسی وقت اسی جگہ آؤں گا اور پھر آپ کی تسلی ہو جائے گی۔میں نے کہا کہ آپ نے اپنے ذمہ بہت سا قرض چڑھا لیا ہے۔کیا آپ پنڈت کو لے کر آنے کی کوئی تاریخ بتا سکتے ہیں تاکہ میں بھی اس دن اسی گاؤں میں موجود رہوں۔ٹھا کر صاحب بولے میں آپ کو بذریعہ چٹھی (خط) اطلاع دے دوں گا۔میں نے کہا آپ کا شکریہ تھا کر صاحب جان چھڑا کر ایسے رفو چکر ہوئے کہ بعد میں نہ تو کوئی خط ہی ملا اور نہ خود ہی کبھی دکھائی دیئے۔مجھے یہ فائدہ پہنچا کہ ہمارے ملک نے بھائیوں کو کئی باتوں کا علم ہو گیا اور ان کو مجھ سے اور زیادہ محبت پیدا ہو گئی۔بعدہ وہاں کے نوجوانوں نے مجھ سے پڑھنے کا اصرار کیا۔میں نے ہاتھ نے ادب لکھ کر پڑھانا شروع کر دیا۔پھر قادیان چٹھی لکھی کہ دو درجن قاعدے میسر نا القرآن بھجوادیں۔چنانچہ میں شاگردوں کو قاعدہ پڑھانا شروع کیا۔آہستہ آہستہ چھوٹی بچیوں نے بھی آنا شروع کیا اور میں نے ان کو بھی قرآن پڑھایا۔نگلہ گھنو میں جے پور کے رہنے والے ایک غیر احمدی دوست چوہدری نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ میرے کام کا معائنہ کرنے کے لئے آئے تھے۔جو اکثر احمدیوں کا کام دیکھ کر یہی کہا کرتے تھے کہ دین حق تو صرف احمدیوں ہی کے پاس ہے اور یہی آریوں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں ان کے بر عکس دیو بندی وغیرہ سب کھلی تو ڑ" ہیں یعنی کوئی کام نہیں کر سکتے۔ایک دن بعد نماز فجریبی وکیل صاحب اچانک بذریعہ یکہ چوپال پہنچ گئے۔میں اس وقت بچوں کو قرآن کریم پڑھا رہا تھا اور سب بچے بڑے زور شور سے پڑھ