تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 8 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 8

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 8 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عزو جل اس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا۔اے فخر رسل قرب تو معلومم شد آمده ز راه رور آمده یس اگر حضرت باری جل شانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پر کے پیدا ہوتے میں جس کا نام بطور تفاول بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو۔ورنہ وہ بفضلہ تعالٰی دوسرے وقت پر آئے گا " عقیقہ سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود کا عقیقہ ۱۸/ جنوری ۱۸۸۹ء بروز جمعہ ہوا۔جیسا کہ حضور علیہ السلام کے ایک خط سے پتہ چلتا ہے۔عقیقہ کے سلسلہ میں جو حجام بلایا گیا اس کا نام دینا تھا۔اس تقریب پر لاہور سے بعض دوست بھی شریک ہوئے جن میں حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور بھی شامل تھے۔خادمہ کا تقرر اور آپ کی صحت کا بگڑنا قدیم خاندانوں کے دستور کے مطابق ابتدائی سے ایک کھلائی مقرر ہوئی۔یہ کھلائی دراصل بیمار تھی۔اس کی بیماری کے اثرات کس طرح سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالی کے جسم میں ظاہر ہوئے۔اس کا تذکرہ خود حضور کے قلم سے لکھتا ہوں آپ اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔۱۸۸۹ء میں پیشگوئی کے مطابق آپ (یعنی مسیح موعود ناقل) کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔جس کا نام آپ نے تفاول کے طور پر (کیونکہ آپ نے لکھا کہ ابھی مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے) محمود رکھا۔کیونکہ اس بیٹے کا ایک نام اللہ تعالی کی طرف سے محمود بتایا گیا تھا اور چونکہ الہام میں اس کا ایک نام بشیر ثانی بھی رکھا گیا تھا۔اس لئے اس کا پورا نام بشیر الدین محمود احمد رکھا گیا۔خدا کی قدرت ہے۔اتفاقاً اس لڑکے کی جو کھلائی مقرر کی گئی وہ شدید امراض میں مبتلا تھی۔ایسے شدید امراض میں کہ اس کے سات آٹھ بلکہ نو بچے کچھ بچپن میں اور کچھ بڑے ہو کر سل اور دق سے مر گئے تھے۔اس عورت نے بغیر اس کے کہ لڑکے کے والدین سے اجازت حاصل کرتی اس کو دودھ پلا دیا اور اس طرح دق اور سل اور خنازیر کے جراثیم اس بچے کے اندرچلے گئے چنانچہ جب وہ دو سال کا ہوا تو پہلے اسے کھانسی ہوئی اور پھر وہ شدید خنازیرہ میں مبتلا ہو گیا اور کئی سال تک مدقوق و مسلول رہا۔مگر چونکہ اللہ تعالٰی نے اس کے ذریعہ ایک بہت بڑا نشان ظاہر کرنا تھا اس لئے خدا نے اس کو بچا لیا۔ל