تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 322 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 322

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ۳۰ الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۰ء صفحه) الفرقان ربوہ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۲۶ 314 خلافت ماشیه کانواں سال ۳۲ حضرت حاجی غلام احمد صاحب آف کریام آپ کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کرانے کے لئے خود قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب الله (جو اس وقت مدرسہ احمدیہ کے افسر تھے) کی خدمت میں آپ کو لیکر حاضر ہوئے چنانچہ آپ نے ان کو مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل کر دیا۔۳۳- الفرقان دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ج ۳۴ الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۴۰ء صفحه ۴ ۳۵ الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۵۷ء صفحه ۴ ۳۶ مفصل معاہدہ کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۰ مئی ۱۹۲۰ء صفحہ ۸-۹ ۳۷- الفضل ۳ جون ۱۹۲۰ء صفحه ا ۳۸۔یہ دونوں جماعتیں 1919ء میں معرض وجود میں آئی تھیں ان کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب مرزا محمد دہلوی اپنی کتاب مسلمانان ہند کی حیات سیاسی میں مفصل لکھتے ہیں۔ہندوؤں کو نئی حکومت کے زیر سایہ اپنی مضبوط قومی تعمیر کے لئے ملک پر زیادہ سے زیادہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی خواہش تھی اور اسی کے لئے انہوں نے جدوجہد شروع کر دی مسلمانوں کا پر جوش طبقہ جو پہلے ہی جذبات سے مغلوب ہو رہا تھا۔یہ سمجھا کہ یہ آزادی کی جنگ ہے بلا کسی شرط کے اس جدوجہد میں ہندوؤں کے ساتھ ہو گیا۔ہندوؤں نے اس نئی طاقت کا خیر مقدم کیا اور بڑے سلیقہ سے اپنے مقصد کے آلہ کار بنالیا۔خلافت کمیٹی کا نگریس کا ایک جزو بن گئی تھی اور جمعیۃ العلماء کی حیثیت ان دونوں جماعتوں کے مذہبی نقیب کی سی تھی کا جگریں کوئی نئی تحریک وضع کرتی خلافت کمیٹی اس پر عمل کرنے کو میدان میں اتر آتی اور جمعیتہ العلماء اس تحریک کو قرآن و احادیث کے مطابق ثابت کر کے نا تات کیا کرتی ( صفحه ۱۰۴، ۱۱۴۱۰۵) اس حقیقت کی روشنی میں یہ سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ تحریک خلافت کے اصل خدو خال کیا تھے ؟ جناب ابو الکلام آزاد جو خلافتی لیڈروں کے سرخیل تھے۔خودہی انکشاف فرماتے ہیں کہ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اگلا قدم کیا ہو۔ایک میٹنگ ہوئی جس میں مسٹر شوکت علی۔حکیم اجمل خاں اور مولوی عبد الباری فرنگی محل بھی شریک تھے گاندھی جی نے اپنا پروگرام ترک موالات سے متعلق پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اب وفود اور عرضد اشتوں کے دن ختم ہو گئے۔ہم کو حکومت کے ساتھ نصرت و اعانت کے تمام تعلقات منقطع کر دینے چاہیں۔گاندھی جی نے میری طرف دیکھا میں نے ایک لمحے کی جھجک کے بغیر کہا کہ مجھے یہ پروگرام منظور ہے اگر لوگ واقعی ترکی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو گاندھی جی کے پروگرام کے علاوہ اور کوئی دوسرار استہ نہیں ہے کچھ ہفتوں کے بعد خلافت کانفرنس میرٹھ میں منعقد ہوئی اس کا نفرنس میں پہلی مرتبہ باضابطہ طور سے گاندھی جی نے اعلانیہ پلک پلیٹ فارم سے ترک موالات کا پروگرام پیش کیا ان کی تقریر کے بعد میں نے ان کی مکمل تائید کی (انڈیا ونس فریڈم - صفحہ ۹ ۱۰ بحوالہ تقسیم ہند از عبدالوحید خاں صفحہ ۵۰-۵۲ ) نیز لکھتے ہیں جہاں تک اس تحریک کا تعلق ایک ملکی مسئلہ سے وہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ اس مسئلے کے خرک چند رفقا ، تھے۔میں نام لوں گا مہاتما گاندھی کا۔وہ تحریک کے اولین اور سب سے بڑے بزرگ تھے جنہوں نے اس تحریک کا ساتھ دیا تھا۔ایضاً صفحہ ۵۵۔۳۹ الفضل ۳ جون ۱۹۲۰ء صفحه ا الفضل سے جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۳-۸ اس مضمون کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کر دیا گیا تھا۔ام الفضل ۱۳ جولائی ۱۹۲۰ء صفحه ۸ ۴۲ الفضل ۲ اگست ۱۹۲۰ء صفحه ۲۷۱ ستمبر ۱۹۲۰ء صفحه) ۴۳ - الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۲۰ء صفحه ۲ ۴۴- الحکم ۲۱ ستمبر ۱۹۲۰، اس نمبر میں سب حضرات کی نظمیں چھپ گئی تھیں۔۴۵ الواح الله منی (شائع کردہ مولوی محمد عنایت الله صاحب تاجر کتب قادیان)