تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 318 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 318

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 310 خلافت دیا ہے اس سلسلہ میں ہم دو اقتباسات تحریر کر کے آگے چلیں گے۔- مولوی عبد المجید صاحب قرشی ایڈیٹر اخبار تنظیم امرت سرنے لکھا ” لجنہ اماءاللہ قادیان احمدیہ خواتین کی انجمن کا نام ہے اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں اور اس طرح پر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے اس انجمن نے تمام احمد یہ خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے عورتوں کا ایمان احمدیہ مردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں۔لجنہ اماءاللہ کی جس قدر کارگزاریاں اخبارات میں چھپ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پُر جوش ہو نگی اور احمد یہ عورتیں اس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کا مرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونا لازمی تھا۔" ایک کٹر آریہ سماجی اخبار ” تیج" (۲۵ جولائی ۱۹۲۷ء) نے رسالہ مصباح پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ” میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے اس کے مطالعہ سے انہیں احمد کی عورتوں کے متعلق جو یہ غلط نہی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دور ہو جائے گی اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورتیں باوجود اسلام کے ظالمانہ حکم کے طفیل پردہ کی قید میں رہنے کے کس قدر کام کر رہی ہیں اور ان میں مذہبی احساس اور تبلیغی جوش کس قدر ہے ہم استری سماج قائم کر کے مطمئن ہو چکے ہیں لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ با قاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اس کے آگے ہماری استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ احمدی عورتیں ہندوستان افریقہ عرب مصر یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ان کا مذ ہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے چند سال ہوئے ان کے امیر نے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید نگاری کہ یہ رقم صرف عورتوں کے چندے سے ہی پوری کی جائے چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدت میں ان عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزار روپیہ جمع کر دیا۔" ۲۴۰ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۲ ء کی تقاریر میں جماعت احمدیہ کو نجات اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد مسئلہ نجات پر روشنی ڈالی اور اس کے مختلف اہم پہلوؤں کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا اگلے سال ۱۹۲۳ء کے سالانہ جلسہ پر بھی حضور نے اسی مضمون کا دوسرا حصہ بیان فرمایا جس میں مسئلہ کفارہ کے دلائل اور تفصیلات غیر معمولی وسعت اور