تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 6 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 6

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ان تصریحات کے ساتھ ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام نے " سبز اشتہار ہی میں یہ پر شوکت اعلان فرمایا:۔الہام نے پیش از وقوع دو لڑکوں کا پیدا ہونا ظاہر کیا اور بیان کیا کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے۔دیکھو اشتهار ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء د اشتهار ۱۰/ جولائی ۱۸۸۸ء۔سو مطابق پہلی پیشگوئی کے ایک لڑکا پیدا ہو گیا۔اور فوت بھی ہو گیا۔اور دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا۔جس کا دوسرا نام محمود ہے۔وہ اگر چہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا۔مگر خدا تعالٰی کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین آسمان مل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے۔کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے پوشیدہ ہے اور انجام کار اس کی آنکھوں سے چھپا ہوا ہے"۔آنحضرت صلحائے امت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پاک بشارتوں ولادت کے مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم کے بطن مبارک سے ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء ( مطابق ۹/ جمادی الاول ۱۳۰۶ھ ) کو بروز ہفتہ بوقت دس گیارہ بجے شب پیدا ہوئے - الدار میں آپ کی ولادت کا کمرہ الدار کے کنوئیں کے جنوبی جانب زیر سقف کمرہ بیت الفکر نمبرا کے ساتھ واقع ہے اور اس کو چہ سے متصل ہے جس پر مسجد مبارک تعمیر شدہ ہے۔اس کمرہ کے حدود نقشہ ذیل سے واضح ہو سکتے ہیں۔الدار کا کنواں کمره ولادت کمره سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی زیر سقف بيت الفكر اید و اللہ تعالٰی گول کمرہ کو چہ جس پر سجد مبارک کی کوچه بطرف مسجد اقصی عمارت ہے مشرق۔زیر سقف بیت الفكر 1 شمال