تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 280
272 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال لٹریچر دار التبلیغ نائیجیریا کی طرف سے بڑی کثرت سے لڑیچر چھپ چکا ہے جس میں یو ر با زبان میں ترجمه قرآن پاره اول) An outline of Islam (اسلام کا اجمالی خاکہ) Muhammad and Christ ( حضرت محمدؐ اور یسوع ) Our Movement ( ہماری تحریک) Ahmad of Qadian احمد قادیانی) Islam and Christianity(اسلام اور عیسائیت) وغیرہ (جو جناب نسیم سیفی صاحب کی تالیفات ہیں، خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔نائیجیریا کے وزیر اعظم الحاج ابو بکر نے اپنی تقریر کے دوران میں کہا کہ مجھے جب بھی عیسائیوں سے بحث کے دوران کوئی بات پیش کرنی ہوتی ہے تو ہمیشہ احمد یہ لٹریچر میری رہنمائی کرتا ہے میں اس کے علاوہ کسی اور مذہبی لٹریچر پر اعتماد نہیں کرتا جتنا احمد یہ جماعت کے لٹریچر پر کرتا ہوں"۔نائیجیریا میں اس وقت مرکزی مبلغوں کے علاوہ متعدد مقامی مبلغ بھی کام کر رہے ہیں ۳۵ جماعتیں قائم ہیں اور مشن اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ وہ خود کفیل ہے اور اس کے ماتحت دس سکول اور دو ہسپتال کھولے جاچکے اور انہیں مساجد تعمیر کی جاچکی ہیں۔اور احمد یہ مشن کی طرف سے ہرماہ تقریباً آٹھ دفعہ ریڈیو پر تقاریر اور ایک مرتبہ خطبہ جمعہ نشر کیا جاتا ہے۔نائیجیریا مشن غیروں کی نظر میں اخبار مسلم ورلڈ نے لکھا (1) "سنوسیہ اور اس جیسے مسلمانوں کے قدیم فرقے جو یورپین طاقت سے کھلے کھلے جنگ کے حامی تھے۔ایک ایک کر کے میدان سے ہٹ گئے ہیں۔اور ان کی جگہ فرقہ احمد یہ لے رہا ہے جس نے لیگوس کے مرکز سے پھیل کر تمام فرانسیسی مغربی افریقہ پر اثر جمالیا ہے"۔(۲) اسی طرح دنی نائیجیے یا سوئیٹ یو لیکوس نے لکھا۔معلوم ہوتا۔ہے کہ احمدیوں کے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ وہ نائیجیریا کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا کر دیں چند ہی سال گذرے ہیں جبکہ انہوں نے یہاں کام شروع کیا اور اب یہ سلسلہ نہ صرف لیگوس میں بلکہ تمام نائیجیریا کے مسلمان نو جوانوں کی زندگی میں ایک بھاری تبدیلی پیدا کر رہا ہے "۔تمام نائیجیر یا اور خصوصا اس کے مرکز لیگوس میں زیادہ افراد حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔| 110 یہی حال ابادان کا ہے جو ملک کا تعلیمی مرکز ہے " نائیجیریا کے لاٹ پادری بشپ ہاولز کی رپورٹ) ۴۔" آج اسلام کو مغربی نائیجیریا میں بہت زیادہ غلبہ حاصل ہو رہا ہے جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ عیسائیت قبول کرنے والے ایک کے مقابل پر اسلام میں میں داخل ہونے والے ہوتے ہیں "۔(دی لائٹریکم نومبر ۱۹۵۳ء از اینگلیکن مشنری) ہ ہم چرچ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے اگر ہماری اس تنبیہ کی طرف توجہ نہ