تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 279 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 279

تاریخ احمدیت جلد ۴ 271 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال دو چار ہو گئے۔جو بعض لوگوں نے ایک خود ساختہ قانون کی بناء پر پیدا کر دی تھی۔معاملہ آخر کردی عدالت تک پہنچا۔۲۰ مارچ ۱۹۳۷ء کو اس کا فیصلہ ہوا۔لیکن فیصلہ ہونے کے باوجو د ۱۹۳۹ء تک حالات مخدوش رہے ۱۹۴۰ء میں حضرت خلیفہ ثانی کے ارشاد پر جماعت کی دوبارہ تشکیل کی گئی۔جس کے بعد مکرم حکیم صاحب نے جماعت نائیجیریا کی ترقی و استحکام کی طرف پوری توجہ دینی شروع کر دی۔اور اپنی مسلسل جدوجہد اور قابل رشک اخلاص سے مشن کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر دیا چنانچہ انہوں نے جماعت نائیجیریا کی تربیت و اصلاح کے لئے متعد د اقدامات کئے تعلیم الاسلام سکول کے لئے سرکاری گرانٹ منظور کرائی نئی جماعتیں قائم کیں۔لیگوس میں ایک نہایت خوبصورت مسجد در مشن ہاؤس تعمیر کیا۔آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ " دی لائف آف محمد " کے نام سے تصنیف کی۔جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی اور آج تک مغربی افریقہ کے تمام سکولوں کے نصاب میں شامل ہے جنوری ۱۹۴۵ء میں جناب مولوی نور محمد صاحب نیم سیفی نائیجیریا بھجوائے گئے جنہوں نے حکیم صاحب کی واپسی کے بعد جو ۱۹۴۷ء میں ہوئی مشن کا چارج لیا۔اور (چند ماہ کے وقفہ کے ساتھ قریباً انیس سال تک اہم تبلیغی خدمات بجالاتے رہے۔آپ ہی نے دی ٹرتھ (The Truth) کے نام سے نائیجریا مشن کا پہلا ہفت روزہ اخبار جاری کیا جو نائیجیریا میں مسلمانوں کا واحد اخبار ہے۔اور عیسائیت کے حملوں کے سامنے ایک آہنی دیوار کا کام دے رہا ہے۔اور تبلیغ اسلام کو احمدیت کا نہایت کامیاب اور مؤثر ذریعہ ہے محترم سیفی صاحب نے پروفیسر الیاس برنی کی کتاب (Qadiani Movement ( قادیانی مذہب) کا جواب "Our Movement"(ہماری تحریک) کے نام سے لکھا جو ہالینڈ سے شائع ہوا۔۶۰-۱۹۵۹ء میں مشہور ہو سا قبیلہ کے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں داخل احمدیت ہوئے۔آپ جولائی ۱۹۶۴ ء میں واپس ربوہ تشریف لائے اور اب مولوی شیخ نصیر الدین احمد صاحب دار التبلیغ نائیجیریا کے انچارج مبلغ ہیں۔جناب نسیم سیفی صاحب کے زمانہ سے لے کر اب تک جن مبلغین کو نائی غیر یا کی سرزمین میں املائے کلمہ اسلام کی توفیق ملی یا جو سرگرم عمل ہیں ان کے نام یہ ہیں۔قریشی محمد افضل صاحب سید احمد شاہ حب، مولوی مبارک احمد صاحب ساقی شیخ نصیر الدین احمد صاحب، مولوی بشارت احمد صاحب ، شیر ، مهدوی محمد بشیر صاحب شاد - مولوی محمد اسحاق صاحب خلیل - عبد المجید صاحب بھٹی۔ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب قریشی مقبول احمد صاحب چوہدری رشید الدین صاحب کرنل محمد یوسف شاہ صاحب - حاجی فیض الحق صاحب قریشی فیرد ز محی الدین صاحب بشیر احمد صاحب شمس۔