تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 253
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 245 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ۴۲۴ الفضل ۲۷ فروری ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۴۱/ ۱۰ اپریل ۱۹۱۷ء صفحہ 1 ۴۲۵۔الفضل ۲۷ جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ ۴۴۶ - فاروق ۶/ ستمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۔۴۲۷ الفضل ۱۳۰ تمبر ۱۹۷۱ء صفحہ ۴۔۳۲۸- فاروق ۱۲ اپریل ۱۹۱۷ء صفحه ۱ ۴۲۹ - الفضل ۱۳/ ۱۰ اپریل ۱۹۱۷ ء صفحہ ۱۰۴۳ / اپریل ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۰۔۴۳۰- ریکار ڈ صدر انجمن احمد یه ۶۱۹۱۷ ۴۳۱- ریکار ڈ صد رانجمن احمد یہ ۱۹۱۷ء۔۴۳۲- قادیان گائیڈ صفحہ ۱۰۲ ۴۳۳ اخبار نور۳/۱۷ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔۴۳۴ الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء صفحہ- ۴۳۵) بالفضل ۷ ار مارچ ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۳۔۴۳۶ - الفضل ۱۱۸ اگست ۱۹۱۷ء صفحه او سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۵۸ ۳۳۷ الفضل ۷ / مارچ ۱۹۱۷ء صفحہ ۹ ۴۳۸ اخبار نور۱۷ اگست ۱۹۱۷ء صفحه ۰۸ ۴۳۹- فاروق ۱۶ ستمبر صفحه ۱۲۷۱۴۰۳ ستمبر ۱۹۱۷ء صفحه ۳-۸- ۴۴۰- الفضل ۲۸/ جولائی ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔۴۴۱ بحواله الفضل ۹/ فروری ۱۹۱۸ء صفحه ۳ ۴۴۲ - الفضل ۴ / مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔۴۴۳ الفضل / مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔۴۴۴ الفضل ۱۸ جون ۱۹۱۸ء صفحه ا ۴۴۵ مکتوب حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبه بنام مولف کتاب محرر و ۳۱/ جولائی ۱۹۷۴ء۔۲۴۹۔الفضل ۲۰/ اگست ۱۹۱۸ء صفحه ۱ ۴۴ حکم سے جولائی ۱۹۱۸ء صفحہ ۴۔۴۳۸ سلسله احمد یه صفحه ۳۵۹۰۳۵۸۔(از حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ) ۴۴۹ حضرت امیر المومنین کو انفلوائنزا کی وجہ سے ہر وقت حرارت رہتی تھی۔اور ضعف قلب کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا تھا حضور کی بیماری پر حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب تار دے کر بلوائے گئے۔حضرت میر صاحب تو قادیان پہنچنے کے دوسرے تیسرے روز خود انفلوائنزا میں جتلا ہو گئے۔مگر حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو قریباً سوا تین ماہ حضور کی خدمت میں رہ کر تیمار داری اور علاج کا موقعہ ملا۔رات کو حضور کے پاس صرف حضرت ڈاکٹر صاحب ہی ہوتے۔اکثر کھانا بھی حضور کے ساتھ کھاتے تھے۔حضور نے انہیں پہلا حکم یہ دیا کہ میری اجازت کے بغیر کمرہ سے باہر نہ جائیں۔ڈاکٹر صاحب نے حضور کابول وبراز ٹسٹ کرانے کے لئے لاہور کے پتھالوجیکل ڈیپارٹمنٹ میں بھجوایا جہاں ڈاکٹر عبد الغنی صاحب کڑک کام کرتے تھے۔تشخیص کا نتیجہ سامنے آنے پر حضرت ڈاکٹر صاحب نے ایک نئی ایجاد شدہ دوا کے چھ ٹیکے منگوائے اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ نئی قسم کا ٹیکہ حضور کے لگایا بھی جائے یا نہیں۔اس بارے میں بعض احباب متامل تھے کہ مبادا کوئی بری علامت پیدا ہو جائے مگر حضرت ڈاکٹر صاحب کو یقین تھا کہ یہ علاج انشاء اللہ ضرور کارگر ہو گا۔اس لئے آپ نے پسند کیا کہ بطور تجربہ ایک ٹیکہ آپ کے لگا کر نتیجہ دیکھ لیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔جو میں گھنٹے گزرنے کے بعد جب کوئی بری علامت ظاہر نہ ہوئی۔پھر تو حضور کے بھی نیکہ لگایا گیا۔دوسرے نیکہ کے بعد حضور کی بیماری ختم ہو گئی اور تیسرے ٹیکہ کی ضرورت نہ رہی۔نیز ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد ہشتم