تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 240 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 240

تاریخ احمدیت جلد ۴ پڑھاتے تھے۔۱۳۳ ریکارڈ صد را انجمن احمد یہ ۱۹۱۸ء 232 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ۱۳۔ریکارڈ صد را انجمن احمد یہ ۱۹۲۰ء- ۱۲۵۔حضرت مفتی صاحب فرماتے تھے۔” جب میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے دفتر میں آپ کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا تو میں اس امر کو مشاہدہ کرتا رہا کہ مختلف علوم و فنون کے ماہر جو باہر سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ سے گفتگو کرتے تو ہر ایک علم کا ماہر آپ کی ملاقات کے بعد اس امر کا اقرار کرنا کہ اگر چہ ہم اپنے علم کے ماہر دا ایکسپرٹ ہیں مگر حضرت صاحب سے گفتگو کے بعد ہم پر یہ اثر ہوا ہے کہ اس علم میں وہ ہم سے بھی زیادہ واقف ہیں "۔(الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۳ کامرام ۱۲۶ مطبوعہ الفضل ۲۵ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۵-۱۶- ۱۳۷ مطبوعہ الفضل ۱۰ مئی ۱۹۵۹ء صفحہ ۲۔یاد رہے کہ یہ خطبہ بیماری کے دوران میں دیا گیا اور نہ زمانہ صحت میں آپ کا آخری خطبہ ۲۰ فروری ۱۹۵۹ء کا ہے۔(مطبوعہ الفضل ۱۳۰ مئی ۱۹۵۹ء صفحہ ۲ تا ۴) ان دونوں خطبوں کے بعد حضور نے ۲۹/ مارچ ۱۹۶۰ء کو خطبہ عید الفطر ارشاد فرمایا۔جو حضو نے پہلے سے املا کروالیا تھا۔اس کے بعد آج تک حضور مجلس میں رونق افروز نہیں ہوئے (خطبہ عید الفطر کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۵/ اپریل ۱۹۹۰ء صفحه ۴۱۳) ۱۲۸ ۱۹۴۴ء تک حضور ایدہ اللہ تعالی کے سفروں کے خطبوں کو قلمبند کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہو تا تھا حضور کے مسفر خدام میں سے جن کو خیال آتا اپنے لفظوں میں خطبات کا مخص الفضل کو بھجوا دیتے تھے۔لیکن فروری ۱۹۳۵ء میں جب شعبہ زود نویسی کا قیام عمل میں آیا تو مستقل طور پر سفر و حضر میں حضور کے ملفوظات لکھنے کا خاص اہتمام کیا گیا۔۱۳۹ ولادت ۲۷/ جنوری ۱۹۰۸ء مولوی فاضل کا امتحان جولائی ۱۹۲۹ء میں پاس کیا مئی ۱۹۳۰ء میں ادارہ الفضل میں شامل ہوئے اور ۱۹۴۵ء میں شعبہ زود نویسی کے انچارج مقرر ہوئے۔۱۳۰۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء صفحه ۸۷- ۱۳۱ خطبات لکھنے والے دوسرے اصحاب شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر چوہدری عبد المجید صاحب بی۔اے۔مولوی محمد اسمعیل صاحب دیاں گڑھی۔مولوی سید احمد علی صاحب مولوی عبد العزیز صاحب چک سکندر چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی۔مولوی سلطان احمد صاحب پیر کوئی۔عبد الکریم صاحب ۱۳۲ الفضل ۱۹/ نومبر ۱۹۴۰ء صفحه ۴ کالم ۴ ۱۳۳- روح پرور خطاب صفحہ ۴۔اس پہلے اشتہار کے شائع کرنے کے لئے آپ کے پاس روپے نہیں تھے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب کو علم ہوا تو انہوں نے پانچ سو روپیہ کی ایک تھیلی پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعمیر مساجد کی رقم ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اسے اس مصرف میں لانا جائز ہے اس لئے یہ رقم خرچ کرلی جائے۔چنانچہ اس رقم سے خلافت ثانیہ کا یہ پہلا اشتہار بھی شائع ہوا۔ارپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۳۷) اور بیرونی جماعتوں میں واعظ بھی بھجوائے گئے۔(سیرت سروری صفحہ ۳۸ غیر مطبوعہ از مولوی صدرالدین صاحب فاضل) ۱۳۴ اشتہار کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔صفحہ ۶-۷ (مشمولہ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء) ۱۳۵۔یہ پورا شعر حضرت مسیح موعود کا ہے جو درثمین میں طبع شدہ موجود ہے۔مولوی محمد علی صاحب اس شعر کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔" اس شعر کو اپنے لئے ہی سمجھتا ہوں ہاں وہ لعل بے بدل صداقت ہے " ضمیمہ پیغام صلح ۱۲ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ الف کالم ۲۰۱) ۱۳۶۔حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں تفریق اعداء کے ایک معنے ان پر اتمام حجت کا ہونا بھی ہے (انوار الاسلام صفحہ ۱۵) ۱۳۷۔اشتہار کون ہے جو خدا کے کلام کو روک سکے صفحہ ۱۲ مشمولہ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء نوشته ۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء) ۱۳۸ - الفضل ۶/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحه ۱۶ ۱۳۹۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو منصب خلافت طبع اول صفحہ 21۔