تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 238
تاریخ احمدیت جلد ۴ 230 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ۷۷- پیغام صلح ۲۹ / مارچ ۱۹۱۴ء کالم ۳ ۷۸- پیغام صلح ۲۴ / مارچ ۱۹۱۴ء- -۷۹ چنانچہ مرزاخد ابخش صاحب نے 1901 ء میں اپنی کتاب ( عسل مصفی بار دوم) میں لکھا۔" اس وقت تک چار ہی لڑکے موجود ہیں جن میں سے ایک وہ موعود بھی ہے جو اپنے وقت پر اپنے کمالات ظاہر کرے گا اور جو حضرت اقدس کا جانشین ہو گا"۔صفحہ ۸۰۰۰۷۹۹ -A+ طبع اول) مجد و اعظم حصہ اول صفحه ۱۵۹ از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب) اپنے اس نئے نظریہ کے باوجود کہ مصلح موعود کا زمانہ تیسری چوتھی صدی ہے ان دنوں پیغام صلح والوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کی نسبت ایک خواب کی بناء پر یہ امید وابستہ کر دی۔خداوند تعالٰی کے دربار میں ممکن ہے کہ تین کو چار کرنے والا آخر مرزا سلطان احمد خان صاحب ہی ہوں۔(پیغام صلح سور فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۸ کالم (۳) خدا کی قدرت حضرت صاحبزادہ صاحب نے خلافت ثانیہ کی بیعت کرلی اور یہ خواب حضور ایدہ اللہ تعالٰی کی سچائی کا ثبوت بن گیا۔الوصیت صفحه اب شائع کردہ اشاعت اسلام بار چهارم اگست ۶۱۹۱۴ ۸۲- ریویو جاندے نمبر ا صفحه ۱۴ ۸۳- پیغام صلح ۱۶/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم ۲- پیغام صلح کے ا/ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۲۸ کالم ۲۔۸۵ دافع البلاء ( طبع اول صفحہ ۱۰ ۸۶- انجام ۱۸/ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ کالم ۲- ۸۷- بیان القرآن اردو صفحه ۱۰ ۸۸ مزید۔4۔-41 ۹۲ ید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ تبدیلی عقائد مولوی محمد علی صاحب ( از حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل حلالپوری) نو مولوی محمد علی اور اس کی تفسیر بیان القرآن نوشته جناب قاضی محمد یوسف صاحب مردان) یہی وجہ ہے کہ ۲۲ / مارچ ۱۹۱۴ ء کی شوری میں اہل پیغام نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر میاں محمود احمد صاحب انجمن کے فیصلوں کو قطعی قرار دیں اور پرانے احمدیوں سے دوبارہ بیعت لینا لازم تصور نہ کریں تو ان کو صدرانجمن احمدیہ کا پریذیڈنٹ اور کل جماعت کا امیر تسلیم کیا جائے۔(مجاہد کبیر صفحہ ۱۱۹) اس ضمن میں ان حضرات کا دلی عقیدہ معلوم کرنے کے لئے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کی یہ عبارت ملاحظہ ہو۔خاتم النبین کے بعد نبی لانے کے مجرم جیسے کہ ہمارے قادیانی بھائی ہیں ویسے ہی غیر احمدی علماء ہم دونوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں کسی نے یا پرانے نبی کے اس امت میں آنے کے عقیدہ کو مستلزم کفر سمجھتے ہیں (پیغام صلح ۲۲/ فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۸ کالم ۲۱) دوسری طرف انہوں نے صاف لفظوں میں اپنا یہ فتوئی شائع کیا۔بے شک ختم نبوت کے منکر کو میں بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔(پیغام صلح ۲۷/ جنوری ۱۹۴۱ء صفحہ ۲ کالم 1) اس فتوی میں جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنی پارٹی کے سوا باقی سب کلمہ گوؤں کو بے دین کا فر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے۔مجاہد کبیر صفحه ۱۶۴ پیغام صلح ۲۷/ فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۱ کالم ۳۔پیغام صلح ۷ / فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۳ کالم۔پیغام صلح ۷ / فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۳ کالم ۳۔۹۴ رسالہ خلافت اسلامیہ برائے قرآن وحدیث صفحہ ۱۸٬۵۔-۹۵ پیغام صلح ۳/ جون ۱۹۳۷ء صفحہ ۶ کالم ۲۔۹۷ مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے مولوی دوست محمد صاحب (غیر مبائع) کا ایک خط (محرر و ۶ / فروری ۱۹۳۷ء) حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں پہنچا جس میں لکھا تھا کہ آپ نے ڈسٹرکٹ بورڈ کے الیکشن میں ایک احمدی کے مقابل غیر احمدی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ حکم منسوخ کیا جائے یہ خط جو دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں محفوظ ہے اس حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے کہ غیر مبائع