تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 234 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 234

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 226 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال میں نے حضور کے فرمان پر اس وقت سے بیعت کرلی تھی۔جب محمود بچہ تھے پھر جب خدا نے ان کو خلیفہ بنا دیا تو میں کیسے پیغامی دوستوں کے ساتھ رہ سکتا تھا۔(ملخص از مکتوب چوہدری برکت علی صاحب بنام مولف کتاب مورخه ۱۱/۴/۱۴ ۲۲- روند او جلسه جوبلی صفحه ۰۹ الفضل ۱۶ / مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۸ کالم ۱-۲- الفضل یکم اگست ۱۹۱۵ء صفحہ سے کالم ۳ الفضل ۲۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ میں ان کی خواب درج ہے افسوس اپنی عمر کے آخر میں یہ غیر مبایعین میں شامل ہو گئے۔۲۵ - انجمن اشاعت اسلام لاہور کے آرگن روج اسلام جلد ۲ نمبرے صفحہ ۵۵ پر لکھا ہے کہ ۲۷/ مئی ۱۹۰۸ء کی شب کو تسجد میں دعا کر رہے تھے تو خیال آیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے بعد کون خلیفہ ہو گا اور آواز آئی بشیر الدین محمود اس خواب سے تین باتیں بالکل واضح ہیں۔اول حضرت مسیح موعود کے صحابہ کا یہی عقیدہ تھا کہ خلافت کا سلسلہ جاری رہے گا ورنہ اگر انجمن ہی اصل جانشین ہے تو اس دعا کی انہیں ضرورت ہی کیا تھی۔دوم خدا تعالی کی نگاہ میں شخصی خلافت کا سلسلہ انجمن کے باوجود جاری رہنا مقدر ہے۔سوم دوسرے خلیفہ بشیر الدین محمود ہوں گے۔افسوس ان واضح حقائق کے منکشف ہونے پر بھی شاہ صاحب نے انجمن والوں سے وابستگی اختیار کرلی اور وجہ یہ بتائی کہ اس کے ساتھ ہی مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ مگر وہ آتے ہی مرتدع ہو جائے گا ہمیں کہتا ہوں یہ فقرہ خود حضرت خلیفہ ثانی کی تائید میں ہے۔کیونکہ لغت میں مرتدع کے معنے ممسوح ہونے اور نشانہ ٹھیک نہ لگنے کے ہیں۔پہلے معنے کی روسے بتایا گیا تھا۔کہ حضور رضائے الہی کے عطر سے آتے ہی ممسوح ہوں گے۔یعنی مصلح موعود کی صفات کے حامل ہوں گے۔دوسرے معنی کے اعتبار سے اس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ باوجودیکہ آپ رات کے تیروں (یعنی دعاؤں) سے جماعت کو متحد رکھنے کی کوشش کریں گے۔مگر آپ کو اس میں کامیابی نہ ہوگی۔اس کے مقابل پر شاہ صاحب نے یہ توجیہہ کی کہ عقائد میں فتور آجائے گا۔حالانکہ آتے ہی کا لفظ بتاتا ہے۔کہ مرتدع ہونے کی صورت قیام خلافت کے بعد ہوگی۔مگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کا تو کتا یہ ہے کہ حضرت میاں صاحب کے عقائد خلیفہ بنے سے پہلے ہی بگڑ چکے تھے۔اس لئے بیعت سے کنارہ کش ہو گئے۔پھر یہ بات عقل بھی قابل تسلیم نہیں کہ کوئی خلیفہ آتے ہی گمراہ ہو جائے۔۲۶ الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۴ ء صفحہ ا کالم ۳۔ایضا الحق دیلی ۱۹۱۴ء ۲۷ پیغام صلح ۱۰ جون ۱۹۱۵ء صفحه ۴ -۲۸ بیان مولوی محمد عثمان صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خاں و الفضل یکم اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔الفضل ۶/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم - ۳۰ مسٹر محمد عبد اللہ کا حضرت خلیفہ اول کے نام مکتوب بدر ۲۳/ اکتوبر ۱۹۱۳ء میں شائع شدہ ہے۔الفضل ۱۳/ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۳ کا کالم ۳ ۳۱ فرقان سالانہ نمبر نومبر دسمبر ۱۹۴۴ء صفحه ۴۴-۴۵- ۳۲- بیعت کے علاوہ بھی ہر نماز کے بعد اور دوسرے وقتوں میں بھی کئی دن تک بیعتیں ہوتی رہیں۔پہلے روز ۳۶۰ عورتوں کی بیعت ہوئی جن میں حضرت ام المومنین اور حضرت اماں جی بھی شامل تھیں۔(الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ا کالم ۳) ۳۳ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے اندازہ کی رو سے صرف پچاس کے قریب آدمی ہوں گے جو بیعت سے باز رہے ( آئینہ صداقت صفحہ (19) جناب مولوی محمد علی صاحب نے انحراف خلافت کی یہ عجیب توجیہ فرمانی که "حضرت مولوی صاحب مرحوم مراد خلیفہ اول ناقل) وصیت کی رو سے نہیں بلکہ قوم کے اتفاق سے خلیفتہ امسحیح کہلائے۔اب جب قوم کا اتفاق نہیں رہا تو خلافت کا خاتمہ ہو گیا"۔(الوصیت شائع کردہ مولوی محمد علی صاحب اگست ۱۹۱۴ء صفحه ج) علاوہ ازیں پیغام صلح میں شائع ہوا۔اب آئندہ کے واسطے اس سلسلہ خلافت کا رواج دینا ہی ایک بہت خطرناک ہے۔(پیغام صلح ۲۹/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۴) ۳۴۔انہی کی نسبت جناب مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب نے ابتداء میں ہی لکھا تھا۔فی الحقیقت حضرت مولوی محمد علی صاحب سے بڑھ کر منصب صدارت و خلافت کے لئے اور کوئی موزوں نام نہ تھا۔(سالانہ رپورٹ انجمن اشاعت اسلام لاہو ر حصہ اول۔دوم صفحہ (۴) اور دعویٰ کیا کہ حضرت مولانا محمد علی صاحب کی آواز گویا کہ خدا کی آواز ہے اور اس کے رسول کی آواز ہے اور اس کے