تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 211
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ لداة -1 203 خلافت ثانیہ کا چو تھا سال نہ ہو گا۔مگر مسلمانوں کو جن کی میجارٹی (کثرت) صرف بنگال اور پنجاب دو صوبوں میں ہے اور بہت ہی کم ہے سخت نقصان پہنچے گا اور ان کی میجارٹی (کثرت) کہیں بھی نہ رہے گی۔نیز بتایا ہم بلحاظ سیاست انہی فرقوں کے ساتھ شامل ہیں جو ہماری طرح دعوئی اسلام رکھتے ہیں اس لئے ہمارا حق ہے کہ ہم اس حیثیت سے بھی اپنی رائے دیں " - اخبار پانیئر (الہ آباد) نے اس کی خبر دیتے ہوئے لکھا کہ "اجمد یہ وقد عصر کے وقت پیش ہوا۔سیکرٹری وفد نے اصلاحات کی ضرورتوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورو چین اور ہندوستانی میں جو تفریق کی جاتی ہے یہ موجودہ باعث بے اطمینانی کا ہے ایسی کوئی اصلاحات نافذ نہ ہوں جو چھوٹی جماعتوں کے حقوق کے لئے ضرر رساں ہوں آخر میں بیان کیا ہندوستان کے واسطے دو قسم کی اصلاحیں ضروری ہیں۔اول وہ اصلاحیں جو سارے ملک کی مجموعی حالت کا خیال کر کے پیش کی جاتی ہیں۔دوئم وہ اصلاحیں جو تعلیم یافتہ اصحاب کی اکثریت چاہتی ہے دونوں قسم کی اصلاحیں بہت ضروری ہیں اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان اصلاحوں کو جاری کیا جائے لیکن آخری فیصلہ کرتے وقت مفصلہ ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے۔کوئی ایسی اصلاح نہ ہو جس سے قلیل التعداد اقوام کے حقوق کو نقصان پہنچے جو اصلاحیں اس ملک کی مختلف اقوام کی بہبودی کے لئے ضروری نظر آ رہی ہیں۔اور ان سے جائز حقوق پورے ہوتے ہیں ان کو مسترد نہیں کرنا چاہئے۔احمدیہ وفد کے موقف کی مزید وضاحت کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح بھی اسی دن 4 بجے شام مسٹر مانٹیگو سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور ۳۵ منٹ تک گفتگو فرمائی۔ترجمان کے فرائض چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے انجام دیئے۔اور حضور ۲۶ / نومبر ۱۹۱۷ء کو دہلی سے قادیان واپس IA تشریف لائے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ حضور کے اس نئے اقدام پر بعض حلقوں کا تاثر کیا تھا ؟ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالی خود فرماتے ہیں۔” جب میں نے بعض سیاسی معاملات میں دخل دینا شروع کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ سیاسی تھے۔بلکہ اس لئے کہ میں انہیں دین کا جزو سمجھتا تھا۔میں نے دیکھا کہ جب میں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا۔تو جماعت کے کئی دوست بھی اس پر معترض ہوئے اور بعض دوسرے لوگ خیال کرتے تھے کہ مجھے سیاسیات سے واقفیت ہی کیا ہو سکتی ہے۔مجھے یاد ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک دوست کے متعلق (وہ اب تو احمدی ہو چکے ہیں۔لیکن اس وقت غیر احمدی تھے ) بیان کیا کہ انہوں نے جب دیکھا کہ میں نے بھی سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے تو کہنے لگے میں نہیں سمجھ سکتا کہ ریل سے بارہ میل فاصلہ پر رہنے والا ایک شخص سیاسیات سے واقف ہی کس طرح ہو ا ہے (اس وقت قادیان میں ریل نہ تھی لیکن اللہ تعالٰی کے فضل سے آہستہ آہستہ اب وہ وقت سکتا۔