تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 201
تاریخ احمدیت جلد ۴ 193 خلافت ثانیہ کا تیسرا سال شروع کر دیا۔اور مدرسہ احمدیہ کی نگرانی کے لئے حضرت میاں شریف احمد صاحب کا تقرر بطور اسسٹنٹ عمل میں آیا۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے بیرونی ممالک مغربی افریقہ میں احمدیت کا پیغام سے تبلیغی خط و کتابت کا ایک سلسلہ جاری کر رکھا تھا۔جس کے نتیجہ میں ۱۹۱۶ء میں نائیجیریا اور سیرالیون میں کئی لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔"سیرت مسیح موعود » حضرت خلیفہ الہی نے یہ اندازہ فرما کر کہ جماعت احمدیہ کی روز افزوں اصحیح ترقی اور اطراف عالم میں پھیلنے والی لہر کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کو صاحب سلسلہ احمدیہ کے حالات سے آگاہی کا خیال پیدا ہو رہا ہے اور ابتدائی حالت میں مفصل و مبسوط کتب کا مطالعہ ان کے کے لئے مشکل ہو گا۔نومبر ۱۹۱۶ء میں "سیرت مسیح موعود" کے نام سے ایک مختصر رسالہ تصنیف فرمایا جس میں بہت اختصار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت ، دعوئی دلائل مشکلات اور حضور کی چند پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا۔یہ رسالہ چھپ چکا ہے اور جاوی و انگریزی زبان میں اس کے تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں۔آنریری مبلغین کے لئے تحریک حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے تبلیغ کے کام کو ملک کے طول و عرض میں زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کے لئے نومبر ۱۹۱۶ء میں آنریری مبلغین کے تقرر کی تحریک ہوئی۔جس پر کئی احمدیوں نے لبیک کہا 00 بہا رہا ئیکورٹ کا فیصلہ مونگیر کے احمدیوں نے سب بیج مونگیر کی عدالت میں غیر احمدیوں کے نام یہ درخواست دی تھی کہ وہ احمدیوں کے مساجد میں آکر نماز پڑھنے میں مزاحم نہ ہوں۔غیر احمدیوں کی طرف سے کہا گیا کہ احمدی کافر ہیں اس لئے انہیں مسجدوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔سب حج اور ڈسٹرکٹ جج نے دعوئی خارج کر دیا اور قرار دیا کہ احمدی فرقہ کے لوگ مسلمان تو ہیں البتہ ان کی بعض رسوم و عقائد دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہیں اس لئے وہ اس رعایت کے مستحق نہیں۔اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔جس کی سماعت ۱۲ / دسمبر ۱۹۱۶ء کو شروع ہوئی جماعت احمدیہ کی طرف سے چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بیر سٹرایٹ لاء پیش ہوئے۔آپ نے کہا کہ عدالت ماتحت نے قانون محمدی کے تحت میرے موکلوں کو مسلمان قرار دیا ہے اس لئے احمدی اس رعایت کے مستحق ہیں۔مدعا علیم کی طرف سے مسٹر مظہر حق پیش ہوئے۔اپیل کی سماعت ختم ہوئی تو خاتمہ پر چیف جج نے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ہائیکورٹ کے جج ان کے بہت شکر گزار ہیں۔مگر ہائیکورٹ نے عدالت ماتحت