تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 168
تاریخ احمدیت جلد ۴ 1 160 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال کوئی کمی نہیں کی اپنے مقدس بانی کی تعلیم کے ماتحت ایک وفادار شہری کا پورا پورا حق ادا کیا اور حکومت وقت کو اپنی طاقت سے بڑھ کر جان و مال سے مدد پہنچائی اور سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالٰی نے بھی انڈین امپیریل ریلیف فنڈ کے لئے مفصل اپیل فرمائی جس پر قادیان سے بارہ سو روپیہ کے قریب چندہ ہوا یہ سب امداد ایک اصول کے ماتحت تھی اور اگر انگریزوں کے سوا کسی اور کی حکومت ہوتی تو اس کے ساتھ بھی یہی وفاداری کا سلوک کیا جاتا۔کیونکہ اسلام کی یہ تعلیم ہے جسے احمدیت نے بڑے زور کے ساتھ پیش کیا ہے کہ حکومت وقت کے ساتھ اور خصوصاً ایسی حکومت کے ساتھ جس کے ذریعہ ملک میں امن قائم ہو تعاون اور وفاداری کا سلوک ہونا چاہئے۔جماعت احمدیہ کے لئے تو سب سے زیادہ قیمتی چیز ہی مذہب اور اشاعت مذہب اور تبدیلی مذہب کی آزادی ہے۔پس جو حکومت جماعت احمدیہ کو یہ چیز دیتی ہے وہ خواہ کوئی ہو اور کسی ملک میں ہو وہ جماعت احمدیہ کو ہمیشہ مخلص اور وفادار پائے گی۔یہاں ہم اس حقیقت کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ انگریزی عہد حکومت میں فوج میں احمدی سپاہیوں کا ایک حصہ اپنی قلت تعداد کی وجہ سے دوسرے سپاہیوں کے ظلم و ستم کا بری طرح نشانہ بنتا رہا ا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک بار ۱۹۱۷ء کا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ” میں نے شملہ یا دہلی میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو ایڈ جو ٹینٹ جنرل یا ایسے ہی کسی اور بڑے افسر کے پاس ایک کیس کے سلسلہ میں بھیجا۔کیس یہ تھا کہ ایک احمدی پر فوج میں سختی کی گئی اور پھر باوجود یہ تسلیم کرلینے کے کہ قصور اس کا نہیں اسے فوج سے بلاوجہ نکال دیا گیا تھا۔فوجی افسر ساری بات سننے کے بعد کہنے لگا۔کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی جماعت ملک کی خدمت کی خاطر فوج میں کام کرتی ہے۔۔۔لیکن ایک بات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ اس کا جواب دیں۔کہ ہندوستان کی حفاظت کے لئے اس وقت اڑھائی تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے اگر ہم آپ کے ایک آدمی کی خاطر اور اس کے حق بجانب ہونے کی بنا پر دوسروں کو خفا کر لیں اور وہ ناراض ہو کر کہہ دیں کہ ہم فوج میں کام نہیں کرتے ہمیں فارغ کر دیں۔تو کیا آپ کی جماعت اڑھائی تین لاکھ فوج ملک کی حفاظت کے لئے مہیا کر کے دے سکتی ہے۔اگر یہ ممکن ہے تو پھر آپ کی بات پر غور کیا جا سکتا ہے اور اگر یہ بات آپ کے نزدیک بھی ممکن نہیں تو بتائیے ہم آپ کی جماعت کی دلداری کی خاطر سارے ہندوستان کی حفاظت کو کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک احمدی دوست فوج میں ملازم تھے باجو دیکہ اس کے خلاف ایک بھی ریمارک نہ تھا اور دوسری طرف ایک سکھ کے خلاف چار ریمارکس تھے لیکن اس سکھ