تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 128
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 120 خلافت ثانیہ کا پہلا س اختلاف رکھتے ہیں مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ جناب مولوی صاحب تو سرے سے مسئلہ خلافت ہی سے رو گردان ہو چکے ہیں ان سے ان کو بڑی کوفت ہوئی اور وہ اکثر اس کا ذکر کیا کرتے تھے "۔شاہ جہانپور کے بعد دہلی کی جماعت جس نے حضرت خلیفہ اول کی وفات کا تار ملتے ہی علم و فضل اور تقومی و روحانیت کے اس مقام کی وجہ سے جو حضرت صاحبزادہ صاحب کو جماعت میں حاصل تھا۔اپنی بیعت کی درخواستیں آپ کی خدمت میں بھیج دیں۔علیحدہ علیحدہ یا مجموعی طور پر کہا گیا ہے اور بار بار کہا گیا ہے کہ انصار اللہ کی سازش کے نتیجہ میں بیعت خلافت ہوتی ہے۔ان دونوں جماعتوں کا اور جماعتوں سے پہلے بیعت کر لینا قدرتی جواب ہے الزام مذکورہ بالا کا۔کیونکہ ان دونوں شہروں میں انصار اللہ کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا۔ڈیرہ غازی خاں شہر میں مولوی محمد علی صاحب کے بڑے بھائی مولوی عزیز بخش رہتے تھے او روہی امام الصلوۃ تھے۔حضرت خلیفہ اول کے وصال کی اطلاع پر وہ قادیان چلے گئے دوسرے تیسرے دن ڈیرہ غازی خاں میں مرکز سے خبر پہنچی کہ حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح منتخب ہو گئے ہیں۔یہ مغرب کے قریب کا وقت تھا اور دوست مسجد میں بیٹھے انتخاب خلافت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے که مولوی عزیز بخش صاحب کے لڑکے میاں اللہ بخش صاحب د رحیم بخش صاحب اس کھڑکی سے جو مسجد کی شمالی جانب مغرب کو ان کے گھر میں کھلتی تھی مسجد میں آئے اور آتے ہی پوچھنے لگے کہ کیا چچا (مولوی محمد علی صاحب) خلیفہ ہو گئے ہیں۔جواب نفی میں پاکر ان پر اداسی چھا گئی اور وہ مبہوت سے ہو گئے۔چند روز بعد مولوی عزیز بخش صاحب بھی قادیان سے لوٹ آئے اور انہوں نے جماعت کو خلافت سے برگشتہ کرنے کی بہت کوشش کی۔مگر اخوند محمد اکبر خاں صاحب نے جو سلسلہ کے لٹریچر سے خوب واقف تھے۔مولوی صاحب کو دندان شکن جواب دیئے۔کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہو تا گیا۔اور بالآخر ایک مسجد میں دو جماعتیں ہونے لگیں۔اسی اثناء میں ایک دن مولوی صاحب جماعتی لائبریری سے اپنی کتابیں بھی اٹھا کر لے گئے کہ یہ میرا حق ہے پھر دونوں فریق الگ الگ جگہ نماز پڑھنے لگے۔رفتہ رفتہ ڈیرہ غازی خاں کے ماحول کی جماعتیں بھی خلیفہ وقت کی بیعت میں داخل ہو گئیں اور گنتی کے چند افراد کے سوا اس فتنے کا کسی پر کوئی اثر باقی نہ رہا۔انگلستان میں ان دنوں جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جناب خواجہ کمال الدین صاحب شیخ نور احمد صاحب، جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال، مسٹر محمد عبد اللہ صحیح نو مسلم انگریز ) میاں عبد العزیز - سید عبد الحمی عرب اور جناب ملک عبدالرحمن صاحب مقیم تھے۔جب خلافت ثانیہ کا قیام ہوا تو خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے ایجنٹ شیخ نور احمد صاحب کے سوا باقی سب نے بیعت کرلی۔