تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 104
تاریخ احمدیت جلد ۴ 96 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت تمام راستے خود مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے بند کر دیئے۔تو آپ نے مولوی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی سرے سے ضرورت ہی نہیں اور یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اس لئے آپ کی جو مرضی ہو کریں۔ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر اکٹھے ہو کر مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں خلیفہ ثانی کا انتخاب جیسا کہ تاریخ احمدیت جلد دوم نیا ایڈیشن میں بالتفصیل لکھا جا چکا ہے کہ تمام احمدی مسجد نور میں جمع ہوئے اور نماز عصر کے بعد حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے حضرت خلیفہ اول کے وصی ہونے کی حیثیت سے حضور کی وصیت پڑھ کر سنائی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ آپ کی وصیت کے مطابق کسی شخص کو جانشین تجویز کریں۔اس پر حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امرد ہوی نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالی کا نام پیش کیا۔مگر آپ نے تامل فرمایا اور لوگوں کے اصرار کے باوجود انکار کرتے رہے۔احمدیوں کے جوش کا یہ عالم تھا۔کہ وہ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے۔بعض لوگوں نے تو آپ کا ہاتھ پکڑ لیا کہ بیعت لیں لیکن آپ نے اس نازک ترین ذمہ داری اور بوجھ کا احساس کر کے پھر بھی پس و پیش کیا تو قریب بیٹھنے والے لوگوں نے شدید اصرار کیا کہ جماعت کی حفاظت اور بچاؤ کے لئے آپ ضرور بیعت لیں۔آپ نے دیکھا کہ لوگ بیعت کے جوش سے اس قدر بھرے ہوئے ہیں اور آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ آپ مجمع میں بالکل چھپ گئے آپ کو بیعت کے الفاظ یاد نہ تھے اور آپ نے اسے بھی عذر بنانا چاہا۔مگر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے عرض کیا کہ میں الفاظ بیعت دہراتا جاؤں گا آپ بیعت لیں۔تب آپ نے یہ سمجھ کر کہ مشیت ایزدی یہی ہے بیعت لے لی۔اور جو ازل سے مقدر تھا باوجود آپ کی پہلو تہی کرنے کے ظہور میں آیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسال مرسلین و تبیین و ائمه و اولیاء وخلفاء ہے تا ان کی اقتدا و ہدایت سے لوگ راہ راست پر آجائیں۔۔۔۔سوخدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعہ یہ دونوں شق ظہور میں آجا ہیں۔دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے اس کی تکمیل کے لئے خدا تعالٰی دوسرا بشیر بھیجے گا اور خدا تعالٰی نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے وہ اپنے کاموں میں اولو العزم ہو گا " دو ڈھائی ہزار کے مجمع میں سے صرف پچاس کے قریب آدمی بیعت میں شامل نہ ہوئے باقی سب نے بیعت کر لی جو خدائی تصرف اور خدائی قدرت کا زبر دست ثبوت ہے چنانچہ ایڈیٹر صاحب اخبار "نور" ( قادیان) نے لکھا۔" پیسہ اخبار کا یہ لکھنا ٹھیک نہیں ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ پر