تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 68
تاریخ احمدیت جلد ۳ 64 سفر د مین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک میں حاضر ہوئے انہوں نے ایک علیحدہ حجرہ رہنے کے واسطے آپ کو دے دیا۔جس کے متصل ایک اور حجرہ تھا۔جہاں چشتی جام پور کے ایک مولوی نبی بخش رہتے تھے یہاں آپ صرف مدینہ کے برکات سے مستفید ہونے اور حضرت شاہ عبد الغنی کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کے لئے آئے تھے اس لئے آپ نے آکر کسی سے سبق نہیں پڑھا البتہ آپ فرصت کے وقت ایک کتب خانہ میں (جو مسجد نبوی کے جنوب و مشرق میں تھا) اکثر تشریف لیجاتے اور کتابیں مطالعہ فرمایا کرتے تھے شروع شروع میں آپ کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ شاہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔مگریہ تحریک کئی قسم کے خیالات آنے پر پھر مدھم پڑ جاتی۔کبھی سوچتے کہ قرآن مجید میں ہر چیز موجود ہے ان لوگوں سے کیا زائد چیز ملے گی۔اگر حسن اعتقاد سے نفع ہے تو عقیدت تو مجھ کو ویسے ہی بہت ہے کسی وقت خیال آنا کہ ہزاروں لوگ جو آپ سے بیعت ہوئے ہیں آخر کسی فائدہ کو دیکھ کر ہی ہوئے ہیں ؟ فرمنکہ کئی دن اسی غور و فکر میں گذر گئے۔بہت دنوں کے بعد آخر آپ نے پختہ ارادہ کر لیا کہ کم سے کم بیعت کر کے تو دیکھیں اس میں فائدہ کیا ہے ؟ اگر کچھ فائدہ نہ ہوا تو پھر چھوڑنے کا اختیار ہے۔لیکن جب آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو خیال آیا کہ ایک شریف آدمی معاہدہ کر کے چھوڑ دے تو یہ بھی حماقت ہی ہے۔پہلے ہی اس سے بات کو سوچ لینا بہتر ہے یہ نسبت اس کے پھر چھوڑ دے۔آخر ایک دن عرض کیا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں آپ نے فرمایا کہ استخارہ کرو۔آپ نے عرض کیا کہ میں تو بہت کچھ استخارہ اور فکر کیا ہے لیکن شاہ صاحب نے جونہی اپنا ہاتھ بیعت لینے کے لئے بڑھایا آپ کے دل میں بڑی مضبوطی سے یہ بات آئی کہ معاہده قبل از تحقیقات یہ کیا بات ہے؟ اس لئے باوجودیکہ انہوں نے ہاتھ بڑھایا تھا۔آپ نے اپنے دونوں ہاتھ کھینچ لئے۔مربع بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ بیعت سے کیا فائدہ؟ آپ نے فرمایا کہ سمعی کشفی گرد و و دید شنید مبدل گردد۔اور یہ وہ جواب ہے جو نجم الدین کبریٰ نے دیا تھا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا دیئے لیکن اس وقت آپ نے اپنے ہاتھ کو ذرا سا پیچھے ہٹا لیا۔اور فرمایا تمہیں وہ حدیث یاد ہے جس میں ایک صحابی نے درخواست کی تھی کہ اسئلک مرافقتك في الجنتہ میں جنت میں آپ کی رفاقت کا طلب گار ہوں آپ نے عرض کیا خوب یاد ہے آپ نے فرمایا اس امر کے لئے تم کو اگر اصول اسلام سیکھنے ہوں تو کم سے کم چھ مہینے میرے پاس رہنا ہو گا۔اور اگر فروع اسلام سیکھنے ہیں تو ایک برس رہنا ہو گا۔تب آپ نے اور بھی ہاتھ بڑھایا اس پر آپ نے بیعت لی اور فرمایا کہ ہم کوئی مجاہدہ سوائے اس کے آپ کو نہیں بتاتے کہ ہر وقت آپ آیت و نحن اقرب اليه من حبل الورید پر توجہ رکھیں پھر و الله معکم این ما کنتم کی نسبت بھی ایسا ہی فرمایا۔اس توجہ میں آپ نے بارہا حضرت نبی کریم ﷺ کی زیارت کی۔حضرت خلیفہ اول اپنی ایک قلمی بیاض میں (خدا کو