تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 60
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 56 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) مضمون " الدر المنثور فی لمعات النور " میں بھی جو انہوں نے میاں عبد المنان صاحب عمر ایم اے کو لکھ کر دیا۔اس واقعہ کی تفصیل لکھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ افسر مدارس منفی خیال کا تھا۔اور جب اس نے دیکھا کہ آپ نے سند چاک چاک کر دی ہے۔تو وہ بھی بول اٹھا کہ ایمان ہو تو ایسا ہو۔(صفحہ ۷۴-۷۵) ۱۰۴ قاموس المشاہیر جلد دوم صفحه ۱۵۴ ۱۰۵ آبائی وطن رامپور محلہ پنجابیاں ہی ہے علم تجوید کے ماہر اور عمدہ قاری تھے کتب فارسی کے علاوہ عربی صرف و نحو کی کتب درسیہ بھی جانتے تھے قرآن مجید اور مسائل فقہ پر گری نظر تھی۔نہایت پر ہیز گار اور خدا پرست تھے یہ ان کی دین داری کا ثمرہ تھا کہ مولوی فضل حق رامپوری اور حکیم محمد نبی جیسے فاضل فرزند یاد گار ہوئے تقریباً اسی سال کی عمر میں ۱۳۲۹ھ (مطابق 1911ء) میں انتقال فرمایا " تذکرہ کاملان رامپور صفحه ۱۹۸- مولفہ حافظ احمد علی خاں رام پور اسٹیٹ یو پی مطبوعہ ۱۲/ جنوری ۱۹۲۹ء) -١٠- حضرت جلال بخاری کی اولاد میں سے تھے غالباً ۶ ۱۲۲ھ مطابق ۱۸۸ء میں تولد ہوئے زمانہ طالب علمی میں خواب میں آپ کو آنحضرت ﷺ کی زیارت ہوئی اور عرض کیا کہ حضور جو کام کروں حضور سے دریافت کر کے کروں گا۔حکم ہوا اچھا۔خواب کے بعد حدیث پڑھنے کا شوق بڑھ گیا۔چھ برس تک مراد آباد میں رہ کر صحاح ستہ اور موطا اور تصانیف شاہ ولی اللہ صاحب مولوی عالم علی صاحب سے پڑھیں اور سند حاصل کی۔نواب وزیر الدولہ نے ٹونک میں رکھنا چاہا۔مگر بند ر کیا کہ میں نے حدیث پڑھی ہے میری آرزو ہے کہ تا زندگی اپنے مکان پر یہ خدمت سر انجام دوں۔چنانچہ اللہ کے فضل سے ایسا ہی ہوا۔نہایت درجہ سادہ مزاج تھے انکسار اور تواضع میں بے مثل 11 طریقہ نقشبندی میں حضرت شاہ عبد المغنی صاحب مجددی سے بیعت تھے اگست ۱۸۹۴ء میں فوت ہوئے اور شاہ بغدادی صاحب کے احاطہ مزار میں دفن کئے گئے منشی امیر احمد صاحب امیر مینائی نے تاریخ رحلت لکھی تذکره کاملان رامپور صفحه ۱۱۴٬۱۰۸) ۱۰۷۔آپ کے جد اعلیٰ حضرت مجدد الف ثانی تھے ۲۶ جولائی ۱۸۳۱ء کو رامپور میں پیدا ہوئے۔۲۵/ دسمبر ۱۸۹۳ء کو وفات پائی اور اپنی مسجد کے متصل دفن ہوئے تصانیف میں ایک ضخیم کتاب انتصار الحق بزبان اردو موجود ہے ترجمہ کتاب الجمیل عالمگیری اردو قلمی کتب خانہ ریاست رامپور میں ہے۔ایک کتاب ارشاد العرف ان کی چھپی ہوئی موجود ہے (ایضا صفحہ ۳۲۴۳۰) ۱۰۸ ولادت ۲۳ / اکتوبر ۱۸۰۴ء وفات ۲۳/ ستمبر ۱۸۷۷ء مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی۔مولانا محمد اسحاق صاحب قدس سرہ کے درس سے استفادہ کیا۔شیخ جمال مکی سے حدیث کی سند حاصل کی ۱۸۵۴ء میں حج و زیارت حرمین سے مشرف ہوئے۔ندر سے پہلے رامپور میں عمدہ قضاء و افتاء پر رہے۔آپ کے شاگردوں کی تعداد شمار سے باہر ہے۔مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی ، حکیم علی حسین خاں لکھنوی آپ کے مشہور تلامذہ میں سے ہیں فارسی و عربی علوم و فنون میں مجمع البحرین تھے۔فارسی میں آشفتہ تخلص کرتے تھے آپ کی تصانیف بہت ہیں شاہ بغدادی صاحب کے مزار کے احاطہ میں آپ کا مزار ہے۔مولوی لطف اللہ اور مولوی بشارت اللہ دو فرزند یادگار چھوڑے (ایضا) صفحه ۱۵۱-۱۵۴) نواب صدیق حسن خاں نے اپنی کتاب ابجد العلوم صفحہ ۹۲۵-۹۲۶ میں بھی ان کے حالات لکھتے ہیں۔19 رام پور میں اس نام کے کئی علماء گزرے ہیں ایک مولوی عبد العلی خان کا جو غالبیا حضرت کے استاد تھے تذکرہ "کامان رامپور " میں آتا ہے۔کہ انہوں نے حدیث حضرت شاہ اسحاق صاحب سے اور طب حکیم صادق علی صاحب سے سیکھی ان کے شاگردوں میں مولوی احمد رضا خاں بریلوی بھی تھے۔۸۶-۱۸۸۵ء میں انتقال فرمایا اور محلہ راج دوارہ میں مولوی غلام جیلانی کے پہلو میں دفن ہوئے (صفحہ ۲۲۹٬۲۲۸) ۱۱۰ مرقاة الیقین صفحه ۶۴ - حضرت مولوی محمد اسماعیل شهید حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے پوتے اور مشہور مفسر اور محدث شاہ عبد العزیز کے بھیجے تھے۔حضرت سید احمد بریلوی نے سکھوں کے خلاف جو جہاد کیا اس میں آپ ان کے دست راست تھے اور بالاخر بالا کوٹ میں ہی بڑی جرات و مردانگی کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور وہیں آپ کا اور حضرت سید احمد بریلوی کا مزار ہے۔۱۱ بدری ابر اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ سے کالم ۳ ۱۱۳- مرقاۃ الیقین صفحہ ۶۱-