تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 59 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 59

55 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) چند سال گذار کر فوت ہو گئے ( نقوش لاہور نمبر صفحہ ۸۸۴) ۸۷ کمی لال کی " تاریخ لاہور میں آپ کا نام صفحہ ان پر لکھا ہے بڑے فاضل ادیب اور نہایت اعلیٰ درجہ کے خوشنویس تھے کابل سے اگر آباد ہوئے اور لاہور میں حویلی میاں خاں میں سکونت پذیر ہوئے (اخبار نویسوں کے حالات از فوق صفحہ ۵۹) ان کے لکھے ہوئے قطعات بعض مساجد اور نوابین قزلباش کے امام باڑہ واقع چوک نواب صاحب میں اب تک بھی موجود ہیں۔کندہ کاری اور نقاشی دونوں کے ماہر تھے خود ہی لکھتے خود ہی نقاشی کرتے اور خواہی پتھر کھودتے۔لاہور میں ان کے بے شمار تلامذہ تھے ۱۸۸۰ء میں انتقال ہوا۔اودھ اخبار لکھنو (۱۹ / فروری ۱۸۸۹ء) نے ان کی وفات پر لکھا۔امام وبردی مرحوم خوشنویسی میں اپنے وقت کے امام اور میں پنجہ کش مرحوم دہلوی کے قائم مقام تھے۔( نقوش لاہور نمبر صفحہ ۱۰۴۸-۱۰۴۹ ۸۸- پدر ۱۳/ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحه ۹ ۸۹ - مرقاة الیقین صفحه ۵۷٬۵۵ الحکم ۷/۱۴ جولائی 1991ء صفحہ ۵ کالم ۳ -9° حکیم شمس الدین صاحب کے فرزند تھے طب حکیم غلام دستگیر صاحب سے پڑھی ان کا شمار لاہور کے مقتدر اطباء میں سے ہو تا تھا۔کثیر الاولاد تھے مگر آپ کی وفات کے وقت تین لڑکے زندہ تھے۔حکیم احمد الدین شارح موجز - حکیم چراغ دین حکیم نیرو زدین جو ماہنامہ رفیق الاطباء وا حکیم کے ایڈیٹر تھے۔(نقوش لاہور نمبر صفحہ ۸۱۶) ۹۲ - بدر ۶ / مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ کے کالم ۲۔بد ر ۲۸-۲۱ جولائی ۱۹۱۰ء صفحه ۳ کالم ۲۴۱ ۹۳ مرقاة الیقین صفحه ۵۷٬۵۶ -۹۴ پدر / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم ۳۲۔ابتدائی کتابوں میں سے جو آپ نے توحید کے مسلک پر پڑھی ہیں ایک کتاب " رفاہ المسلمین بھی تھی۔(ایضاً)- مرقاۃ الیقین صفحہ ۵۷ ۹۵ ترکی اور روس میں تین مشہور جنگیں ہوئیں۔۱ (۱۸۲۷ء تا۶۱۸۲۹-۲- (۱۸۵۴ تا ۱۱۸۵۶-۳-۶۱۸۷۷۰۷۸- سب سے پہلی لڑائی کا خاتمہ صلح نامہ ایڈریا نوپل کی شکل میں ہوا۔جس کے مطابق یونان کو خود مختاری حاصل ہوئی۔دوسری جنگ کے بعد جس کا ذکر او پر واقعات میں کیا گیا ہے معاہدہ پیرس عمل میں آیا جس کی رو سے ترکی کی سالمیت برقرار رکھنے کا یقین دلایا گیا۔تیسری لڑائی میں بلقانی ریاستوں (Balkan States) کو خود مختاری نصیب ہوئی (اردو انسائیکلو پیڈیا شائع کردہ فیروز سنز لمیٹڈ - صفحه ۵۵۶) - مرقاة الیقین صفحه ۱۸۱- بد در ۱۸ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۰۶ ۹۷ صلیب کے علمبردار مصنفہ پادری برکت اللہ ایم۔اے صفحہ ۲۱ جناب چوہدری احمد جان صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی اور جناب مولوی عبد الرحمن صاحب خاکی نے راولپنڈی کے محکمہ تعلیم سے اس زمانہ کے ریکارڈ بر آمد کرنے کی کوشش کی مگر معلوم ہوا کہ وہ مدت ہوئی انسپکٹر آف سکول کے دفتر میں منتقل کر دیا گیا تھا۔لیکن وہاں سے بھی کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔اگر وہ ریکار ڈمل جاتا تو حضرت خلیفہ اول کے متعلق کئی نئے امور کا قطعی پست مل جاتا۔اور عین ممکن ہے کہ آپ کی معین تاریخ ولادت کی بھی نشان دہی ہو جاتی۔-** شكل 49۔قلمی بیان حضرت خلیفہ اول پنڈ دادنخان کی بنیاد ۱۷۲۳ء میں رکھی گئی۔۱۸۷۳ء میں یہاں میونسپلٹی قائم ہوئی۔۱۸۶۸ء میں اس کی آبادی 110 ۷ نفوس پر تھی ( پنجاب گزٹیر ۸۴-۱۸۸۳ء صفحہ (۱۶) موجودہ آبادی میں ہزار کے لگ بھگ ہے۔اور چار حصوں میں منقسم ہے۔شہر کے باہر ایک پرانا قلعہ ہے۔اس میں تحصیل ہوتی ہے اور ایک بارہ دری بھی اب تک موجود ہے جو راجہ گلاب سنگھ کی بنوائی ہوئی ہے۔یہاں کے باشندے اکثر نمک کھودنے کا کام کرتے ہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وقت یہ نمک کی بھاری منڈی تھی (میانی والے بھی چونکہ یہیں سے نمک لے جاتے تھے اس لئے میانی کولون میانی کہا جاتا تھا) (تعارف صفحہ ۴۴۳) ۱۱- یہ معین تاریخ ڈاکٹر ممتاز بی صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ پنڈ داد خاں نے بہم پہنچائی ہے۔جزاء اللہ احسن الجزاء -۱۰۲ پنجاب ڈسٹرکٹ گزینز ( ضلع جہلم) ۱۹۰۴ء صفحه ۲۶۳ ١٣- الحکم ۲۸-۲۱ جولائی ۱۹۵۴ء صفحہ ۲ کالم ۳۴۲۔ایضا مرقاة الیقین صفحه ۱۸۶- حضرت مولانا راجیکی صاحب نے اپنے ایک غیر مطبوعہ