تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 43
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 39 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) لگا۔اے کریم موٹی ایک نادان کے کام سپرد کرنا اپنے بنائے ہوئے رزق کو ضائع کرنا ہے۔یہ کس لائق ہے جس کے سپر د روٹی پکانا کیا گیا۔اس روٹی کے انتظام اور دعا کے بعد حکیم صاحب کے حضور پر تکلف لباس میں جا پہنچا۔جاتے ہی اپنی دعا کی قبولیت کا یہ اثر دیکھا کہ حکیم صاحب نے فرمایا۔آپ اس وقت آئے اور بے اجازت چلے گئے یہ شاگردوں کا کام ہے ؟ آئندہ تم روٹی ہمارے ساتھ کھایا کرو اور یہیں رہو یا جہاں ٹھہرے ہو وہاں رہو مگر روٹی یہاں کھایا کرو۔میں نے کچھ عذر معذرت کی پھر آپ نے فرمایا کیا پڑھنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا طب پڑھنا چاہتا ہوں مجھے اس وقت یہ بھی اطلاع نہ تھی کہ دنیا میں بڑا طبیب کون ہے۔حکیم صاحب نے فرمایا طب کہاں تک پڑھنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا افلاطون کے برابر۔مجھ کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ افلاطون کوئی حکیم ہے یا طبیب آپ نے ہنس کر فرمایا۔کچھ تو ضرور ہی پڑھ لو گے۔اگر کسی چھوٹے کا نام لیتے تو میرے دل کو بہت صدمہ پہنچتا۔کیونکہ ہر ایک انسان اپنی نمایت مطلوب تک نہیں پہنچتا۔حکیم الہ دین لاہوری مرحوم اور حکیم محمد بخش لاہوری مرحوم سے کسی قدر موجز تو میں پڑھ ہی چکا تھا اور علمی مباحثات کے لئے میری پہلی تعلیم کافی سے بھی زیادہ تھی میں نے عرض کیا قانون شروع کرا دو۔اس پر حکیم صاحب نے تبسم کیا۔پھر میں نے جلد جواب دیا کہ میں تو خد اتعالیٰ کی کتاب بھی سمجھ سکتا ہوں بو علی سینا یا اس کا قانون اس سے بڑے ہیں ؟ حکیم صاحب نے نفیسی کی طرف اور اس کے علمی حصہ کے لئے مجھے مجبور کیا۔میں نے کتاب شروع کر دی۔ایک ہی سبق تمام دن میں میرے لئے ہرگز قابل برداشت نہ تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ کہیں کوئی اور سبق پڑھوں مگر وہابیت کا خدائے تعالیٰ بھلا کرے اس نے کوئی جگہ پسند نہ کرنے دی۔پھر بھی مولوی فضل اللہ نام فرنگی محلی سے میری سفارش ہوئی اور انہوں نے ملا حسن یا حمد اللہ پڑھانے کا وعدہ کیا اور شروع کرا دی میں نے چند ہی سبق پڑھے ہوں گے کہ تنہائی میں اپنی گذشتہ عمر کا مطالعہ شروع کیا اور اس بات تک پہنچ گیا کہ اگر تو اسی طرح پڑھے گا تو ان علوم سے متمتع ہونے کے دن تجھ کو کب ملیں گے اور میرے دل نے فیصلہ کر لیا کہ اگر چھ سات سبق ہر روز نہ ہوں تو پڑھنا گویا عمر کو ضائع کرنا ہے غرض اس فیصلہ کے بعد حکیم صاحب کے حضور صرف اس لئے گیا کہ آج میں ان سے رخصت ہو کر رامپور جاؤں گا لیکن قدرت خداوندی کے کیا تماشے ہیں کہ میری اس ادھیڑ بن کے وقت حکیم صاحب کے نام نواب کلب علی خاں نواب رام پور کا تار آیا تھا کہ آپ ملازمت اختیار کر لیں۔m علی بخش نام ان کے ایک چہیتے خدمت گار علیل ہیں ان کا اگر علاج کریں۔دوپہر کے بعد ظہر کی نماز پڑھ کر میں وہاں حاضر ہوا اپنے منشاء کا اظہار کر کے عرض کیا۔کہ اب میں رامپور جانا چاہتا ہوں حکیم صاحب نے فرمایا تم یہ بتاؤ مجھ جیسے آدمی کو ملازمت اچھی